پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر ابھرتا ہوا کردار ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ سے منسلک کرپٹو منصوبے ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ کی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔
بلوم برگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اہم تقریب منعقد ہوئی، جہاں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹیو زکریا وٹکوف کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔
زکریا وٹکوف صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کے شریک بانی بھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ تقریب بظاہر ایک سٹیبل کوائن معاہدے کے لیے تھی، جس میں براہِ راست مالی سرمایہ کاری شامل نہیں تھی، تاہم اعلیٰ سطح شرکت نے اسے ریاستی نوعیت کا تاثر دیا۔
اس موقع پر موجود کاروباری شخصیت بلال بن ثاقب، جو ‘کرپٹو برو’ کے نام سے مشہور ہیں، نے اس دورے کو پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے میں اہم قرار دیاہے۔ وہ حالیہ عرصے میں کرپٹو دنیا کی نمایاں شخصیات میں شامل ہو کر سامنے آئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر روابط استوار کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی اس سرگرمی نے ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی تناظر کو بھی اجاگر کیا، جہاں پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کرپٹو ٹیکنالوجی کے باعث نئے مواقع پیدا ہوئے، جس سے عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے اور پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری انا کیلی کے مطابق امریکہ پاکستان کے ساتھ توانائی، اہم معدنیات اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ انہوں نے کرپٹو روابط کے حوالے سے کسی مفاد کے ٹکراؤ کی تردید کی۔