افغان ویمن کرکٹ ٹیم کی تین سال بعد واپسی

بینفشہ ہاشمی کا تعلق افغان کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہے۔ انہوں نے افغان خواتین کرکٹ ٹیم کی جرسی کے لیے نیا لوگو ڈیزائن کیا ہے جہاں آسٹریلیاء اور افغانستان کے قومی پھولوں کی نمائندگی کی گئی ہے۔ جرسی پر اسی لوگو ڈایزائن کے ساتھ افغان ویمن کرکٹ ٹیم نے تقریبا تین سال بعد کرکٹ کے میدان میں باقاعدہ طور پر قدم رکھ لیا ہے۔

افغان کرکٹ ٹیم سے وابستہ تقریبا 20 افغان خواتین نئی حکومت کے قیام کے بعد سے آسٹریلیاء میں مقیم ہیں۔ تین سال بعد ٹیم نے آسٹریلیاء کے میلبورن میں اپنا نمائشی میچ کھیلتے ہوئے امید اور یکجہتی کا پیغا م دیا۔ ان خواتین نے تین سال قبل طالبان حکومت کے قیام اور لڑکیوں کے کھیلوں اور تعلیم پر پابندی کے بعد آسٹریلیاء میں پناہ اختیار کی تھی۔

کرکٹ ٹیم کی کپتان ناہیدہ سپان کے مطابق وہ صرف ایک ٹیم کی تشکیل نو نہیں کرنے جارہے ہیں بلکہ ایک تحریک کا آغاز کرنے والے ہیں جہاں سے دیگر خواتین کے لیے راستے نکلیں گے۔ سال 2020 میں افغان کرکٹ بورڈ نے 25 پیشہ ور خواتین کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، مگر ان کے کھیلنے سے پہلے ہی کابل طالبان کے زیر انتظام آگیا اور اس ٹیم کو یکجا کرنے کی کوششیں معدوم ہوگئی۔

ان 25 خواتین میں 22 اس وقت آسٹریلیاء میں مقیم ہیں۔ ان میں سے کچھ کھلاڑیوں نے کسی قسم کی سرکاری حیثیت کے ساتھ پناہ گزینوں کی ٹیم بنانے کی درخواست آئی سی سی کو دے رکھی ہے ۔ تاہم، اس پر ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوسکی ہے۔

جمعرات کو کھیلا جانے والا میچ میلبورن کے جنکشن اوول میں کھیلا گیا۔افغان کھلاڑیوں نے ‘کرکٹ ود آؤٹ بارڈرز’ نامی ادارے کی نمائندگی کی جو نوجوان خواتین کو کھیل کی طرف راغب کرنے کا کام کرتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں