منگل کے روز ترجمان امارتِ اسلامیہ افغانستان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے دوران گرفتار کیے گئے تین پاکستانی فوجیوں کو سعودی وفد کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات گزشتہ چار ماہ سے معطل چلے آ رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رہائی افغان طالبان کی اس پالیسی کے مطابق ہے جس کے تحت وہ دنیا کے ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ مزید برآں، اس اقدام کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے ان فوجیوں کی رہائی کی درخواست کی گئی تھی، اور اسی ملک نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نرمی کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی کیں۔
تاحال پاکستان کی جانب سے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر میں شدید سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں، جن کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ پاکستان نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔