پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان متعدد دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جو خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمدنے کہا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں پر شدید تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج افغانستان دہشت گرد تنظیموں اور ان کے پراکسی گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ تشخیص عالمی جائزوں اور اقوامِ متحدہ کے مانیٹرنگ اداروں کی رپورٹس میں بھی سامنے آ چکی ہے۔
پاکستان کے مطابق افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے سرگرم تنظیموں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ،داعش خراسان (آئی ایس کے پی) ، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) شامل ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ گروہ سرحد پار دراندازی، پرتشدد حملوں اور خودکش دھماکوں میں ملوث ہیں، جو خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں اور خاص طور پر پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے دعوی کیا کہ افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کے بعض عناصر ان شدت پسند نیٹ ورکس کی معاونت میں ملوث ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے مشرقی پڑوسی بھارت پر بھی الزام لگایا کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے گروہوں کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے، جسے انہوں نے پاکستان کے خلاف “پراکسی جنگ” قرار دیا۔
پاکستانی مندوب کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ صرف گزشتہ ماہ ہی تین خودکش حملوں سمیت مختلف واقعات میں 175 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے پھیلاؤ کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ پورے خطے اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔