قطر دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد خود کو ایک نئے اور نازک دوراہے پر کھڑا دیکھ رہا ہے، ایک طرف اسرائیلی جارحیت نے قطر کے بطور ثالث کردار اور اس کی عالمی ساکھ کو جھٹکا دیا ہے، دوسری طرف خطے کی نئی صف بندی نے اسے مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات اور اتحادیوں کو از سرِ نو ترتیب دے۔ دوحہ میں حماس قیادت پر حملہ نہ صرف قطر کی میزبانی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس کی داخلی سلامتی، غیر جانبدار تاثر اور غیر روایتی سفارتکاری کے مستقبل کو بھی متاثر کرتا ہے، ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ قطر آگے کیا کرے گا، کیا وہ ایران کے ساتھ اپنے روابط کو مزید گہرا کرے گا، کیا اسرائیل کے خلاف کسی عسکری اقدام پر غور کرے گا، اور کیا حماس کی قیادت کے لیے قطر اب بھی محفوظ پناہ گاہ رہے ؟
حالیہ برسوں میں قطر نے ایران کے ساتھ تعلقات میں نرمی اور بعض شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے، خصوصاً توانائی، معیشت اور دفاعی مشاورت میں، لیکن یہ تعلق ہمیشہ محتاط اور محدود رہا ہے تاکہ قطر اپنے خلیجی پڑوسیوں اور امریکی اتحادیوں کو ناراض نہ کرے، اب جب اسرائیل نے قطر کی سرزمین پر حملہ کیا ہے تو دوحہ کی جانب سے تہران کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی توقع بڑھ سکتی ہے، کیونکہ ایران پہلے ہی حماس اور دیگر مزاحمتی گروپوں کا کھلا حامی ہے، قطر ایران کے ساتھ سیاسی تعاون کو بڑھا کر اسرائیل پر سفارتی دباؤ پیدا کر سکتا ہے اور خلیجی و اسلامی دنیا میں اپنے لیے ایک نئی حمایت کا ماحول بنا سکتا ہے، مگر یہ راستہ بھی خطرات سے خالی نہیں، ایران کے ساتھ زیادہ قربت قطر کے لیے امریکی اور خلیجی تعلقات میں تناؤ پیدا کر سکتی ہے۔
عسکری ردعمل کے حوالے سے قطر کی روایت اور صلاحیت دونوں اس امکان کو تقریباً ناممکن بناتی ہیں، قطر ایک چھوٹا مگر خوشحال ملک ہے جس کی قوتِ اثر نرم طاقت، سفارتکاری اور ثالثی پر مبنی ہے، اس کی معیشت اور دفاعی ڈھانچہ امریکی اڈوں اور مغربی اتحادیوں پر منحصر ہے، براہِ راست عسکری کارروائی نہ قطر کے پاس عسکری وسائل کے لحاظ سے ممکن ہے اور نہ ہی یہ اس کی خارجہ پالیسی کی سوچ کے مطابق ہے، اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ قطر اسرائیل کے خلاف سخت سفارتی اور قانونی محاذ کھولے گا، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی عدالت میں کارروائی کا مطالبہ کرے گا، حماس یا فلسطینی عوام کی مدد جاری رکھے گا مگر کھلے عسکری تصادم سے گریز کرے گا۔
حماس کی قیادت کے لیے دوحہ اب ایک محفوظ اور آرام دہ پلیٹ فارم کم اور ایک دباؤ والا ماحول زیادہ بن سکتا ہے، اسرائیل کی کارروائی نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ قطر کے اندر بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، اس کے نتیجے میں قطر اپنی سرزمین پر حماس قیادت کی موجودگی اور سرگرمیوں پر مزید نگرانی یا پابندیاں لگا سکتا ہے، یا ان کی نقل و حرکت کو محدود کر سکتا ہے تاکہ داخلی سلامتی اور بین الاقوامی دباؤ میں کمی آئے، قطر کی کوشش ہوگی کہ اپنی ثالثی کی ساکھ برقرار رکھے مگر اپنے ملک کو براہِ راست جنگی کارروائیوں کا میدان نہ بننے دے۔
یوں قطر کے لیے سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی یہی ہوگی کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات بڑھا کر اسرائیل کے خلاف سیاسی وزن حاصل کرے، قانونی اور سفارتی محاذ پر سخت موقف اختیار کرے، حماس کے معاملے میں حفاظتی اور نگرانی کے اقدامات کرے اور عسکری تصادم سے گریز کرے، یہ راستہ قطر کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اخلاقی برتری دے سکتا ہے اور اس کی نرم طاقت کو محفوظ رکھ سکتا ہے، اگرچہ یہ دباؤ کے اس ماحول میں ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہوگا۔