‘اگر وہ پورا علاقہ لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا’، مشرقِ وسطٰی کی غیر یقینی صورتحال اور امریکی سفیر کا متنازع بیان

اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ایک حالیہ بیان نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل اور نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو انہیں اس پر “کوئی مسئلہ نہیں” ہوگا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، یہ بیان انہوں نے سابق امریکی ٹی وی میزبان ٹَکر کارلسن کو ایک انٹرویو میں دیا۔ گفتگو کے دوران جب اسرائیل کی جغرافیائی حدود سے متعلق سوال اٹھایا گیا تو ہکابی نے کہا کہ اسرائیل کی سرحدوں کا تصور بائبل کی تعلیمات سے جڑا ہوا ہے۔ ٹکر کارلسن نے نشاندہی کی کہ بائبل میں بیان کردہ علاقہ عراق کے دریائے فرات سے لے کر مصر کے دریائے نیل تک پھیلا ہوا بتایا جاتا ہے۔ اس پر ہکابی نے جواب دیا کہ “اگر وہ پورا علاقہ لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا۔”

یہ جملہ سن کر میزبان نے حیرت کا اظہار کیا اور مزید وضاحت طلب کی، جس پر امریکی سفیر نے کہا کہ اسرائیل خود اس طرح کے کسی وسیع قبضے کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ بعد ازاں، ہکابی نے اپنے بیان کو کسی حد تک مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے وضاحت دی کہ اگر اسرائیل پر مختلف ممالک حملہ کریں اور کسی جنگ کے نتیجے میں وہ علاقے اس کے قبضے میں آ جائیں تو یہ ایک الگ صورتحال ہوگی، کیونکہ جنگ کے بعد زمینی حقائق تبدیل ہو سکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب مائیک ہکابی کے بیانات تنازع کا باعث بنے ہوں۔ جون 2025 میں انہوں نے کہا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست اب امریکی خارجہ پالیسی کا مقصد نہیں رہی۔ اس بیان کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے وضاحت جاری کی تھی کہ سفیر نے ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے اور یہ امریکی حکومت کی سرکاری پالیسی نہیں۔

ہکابی نے فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق ایک اور متنازع تجویز بھی دی تھی کہ فلسطینی ریاست کے لیے اسرائیل سے زمین لینے کے بجائے کسی مسلم ملک سے علاقہ مختص کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے کے لیے اسرائیلی حکومت کے پسندیدہ بائبلی نام “یہودیہ و سامریہ” کا استعمال کیا، جہاں تقریبا تیس لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں اپنے ایک فیصلے میں اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پس منظر میں امریکی سفیر کا حالیہ بیان مزید حساسیت اختیار کر گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے کشیدہ صورتحال میں مزید سفارتی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں جاری امن کوششوں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں