برطانیہ میں ہونے والی ایک اہم سائنسی پیش رفت نے پروسٹیٹ کینسر کی جلد اور مؤثر تشخیص کی امیدوں کو نئی زندگی بخشی ہے۔ برطانوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ، انہوں نے ایک ایسا نیا ٹیسٹ تیار کیا ہے جو تھوک (saliva) کے ذریعے نہ صرف پروسٹیٹ کینسر کا پتہ لگانے میں مدد دیتا ہے، بلکہ اس کے مرحلے کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ طریقہ روایتی خون کے ٹیسٹ سے زیادہ قابل اعتماد نتائج فراہم کرتا ہے۔
یہ تحقیق 6 ہزار مردوں پر کی گئی جن کی عمریں 55 سے 71 برس کے درمیان تھیں۔ تمام شرکاء سے تھوک اور منہ کی دیگر رطوبتوں کے نمونے لیے گئے، تاکہ ان کے جینیاتی خاکے کا تجزیہ کیا جا سکے۔ ماہرین نے خاص طور پر 130 جینیاتی اجزاء پر توجہ دی جو پروسٹیٹ کینسر کے امکانات سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔
تجزیے کے بعد 700 سے زائد افراد کی رپورٹس میں غیرمعمولی علامات پائی گئیں، جس پر ان افراد کے مزید ایم آر آئی اور بائیوپسی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان اضافی ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ، ان میں سے 187 افراد کو واقعی پروسٹیٹ کینسر لاحق تھا، جن میں سے نصف سے زائد یعنی تقریبا55 فیصد میں بیماری خطرناک حد تک پھیل چکی تھی۔
ماہرین کے مطابق ‘سلائیوا(saliva) ٹیسٹ’ خون کے ذریعے کیے جانے والے موجودہ پی ایس اے (PSA) ٹیسٹ کے مقابلے میں نہ صرف کم تکلیف دہ ہے، بلکہ نتائج کے اعتبار سے بھی زیادہ درست اور بروقت معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج نے ماہرین کو امید دلائی ہے کہ، یہ طریقہ کینسر کی جلد تشخیص کے لیے ایک مؤثر متبادل بن سکتا ہے۔
اگرچہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ، یہ طریقہ فی الحال تجرباتی مراحل میں ہے اور اسے برطانوی حکومت یا طبی اداروں کی جانب سے حتمی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ اس پر مزید تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے، تاکہ اسے باقاعدہ طبی تشخیص کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
یہ کینسر عمومی طور پر عمر رسیدہ مرد حضرات کو لاحق ہوتا ہے اور دنیا بھر میں خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں بڑی عمر کے افراد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس نئی تحقیق سے امید ہے کہ، مستقبل میں پروسٹیٹ کینسر کی جلد تشخیص ممکن ہو سکے گی، جس سے اس مہلک مرض کے خلاف بروقت اقدامات کیے جا سکیں گے۔