پیاری فائزہ
آداب
کیسی ہو تم؟ مجھے اکثر تمہاری ہنسی بہت یاد آتی ہے ۔ تم ہر چھوٹی چھوٹی پر کھلکھلا ہنستیں اور ہنستی چلی جاتی تھیں ۔ بہت پیارے بے فکری کے دن تھے ۔ اب تو زیادہ مل بھی نہیں پاتے ملیں بھی تو پہلے جیسی فرصت نہیں ہوتی ۔ کچھ وقت پہلے جب تمہیں یاسر کی شادی پر دیکھا تو چھوٹے چھوٹے بچوں کی ذمہ داریوں میں الجھی مصروف ماں نظر آئی ۔ تم جو کبھی ہم سب کزنز میں سب سے زیادہ خوش مزاج ہوتی تھی اب کچھ سنجیدہ اور تھکی تھکی سی لگی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے اپنا وقت یاد آیا جب میرے بچے چھوٹے تھے۔ گھر کی ذمہ داری کی زیادہ عادت بھی نہیں تھی تو ایسے ہی پریشان غصے میں اور الجھی ہوئی رہنے لگی تھی ۔ پھر تمہارے بھائی صاحب نے ایک دن پاس بیٹھا کر آرام سے سمجھایا کہ یہ ذمہ داریاں اور مصروفیات زندگی کا حصہ ہیں۔ جو چیزیں تم ٹھیک کر سکتی ہو وہ کرو اور جو نہیں کر سکتی ان کا بوجھ نہیں لو ۔ اللہ سے مدد مانگو۔ یقین کرو اسی دن سے بہتری کا آغاز ہو گیا تھا ۔ میں نے پھر اس پر کافی پڑھا بھی سیکھا بھی ۔ اب مجھے چیزیں پہلے کی طرح پریشان نہیں کرتیں ۔ میں خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتی ہوں ۔ حالانکہ میرا وزن بڑھ گیا ہے اور میں لمبے قد کے باوجود پوری گول ہونے ہی والی ہوں ۔ شادی میں بھی تم سب مجھے اس بات پر چھیڑ رہے تھے ۔ میں پھر بھی اپنے موٹاپے کے ساتھ خوش ہوں ۔
تم سے بات کرنے کا میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا لیکن شادی کے ہنگاموں میں کہاں وقت ملتا ہے ۔ فون پر لمبی لمبی باتیں بھی اب کہاں ممکن ہیں ۔ سوچا خط لکھوں جسے تم اپنے سمارٹ فون پر پڑھ لینا یا پھر کسی اچھی سی ایپ کی مدد سے سن لینا ۔ خط طویل ہونے والا ہے ۔ گھبرا نہیں جانا ۔ ویسے مجھے یاد ہے تمہاری ناولز اور کہانیاں پڑھنے کی سپیڈ ہمیشہ بہت تیز تھی۔
چندا میں تمہیں کچھ سمجھانا نہیں چاہتی بس تم سے دل کی بات کرنا چاہتی ہوں۔ حال ہی میں ، میں نے ایک بہت خوبصورت مضمون پڑھا۔ عنوان تھا:
"How to Rewire Angry Mom Brain”
یہ Hillary Gruener نے لکھا ہے، اور WordFromTheBird.blog پر شائع ہوا ۔
پڑھ کر مجھے فوراً تم یاد آئی اور یہ بھی کہ تم سے بات کرنے کا سوچ رکھا ہے تو اسی کی مدد سے بات کرتی ہوں ۔ مجھے امید ہے اس بہترین تحریر سے ہم دونوں کچھ سیکھیں گے ۔
اس میں لکھا تھا کہ اکثر مائیں خود کو غصیلہ نہیں سمجھتیں۔ لیکن دن بدن، تھکن، پریشانی، اور دنیا کے حالات انہیں اُس طرف لے جاتے ہیں۔
یہ غصہ آہستہ آہستہ دل میں کڑواہٹ بن جاتا ہے ۔ پھر جب ہم اسے باہر نکالتے ہیں تو بھی خود کو آئینے میں پہچاننا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ہم نہیں ہوتے ہمارا مزاج نہیں ہوتا ۔
یہ بالکل وہی بات ہے جو تم نے کہی تھی ۔
بجو ! پتہ نہیں میں کون بن گئی ہوں ۔۔۔
مصنفہ کی باتیں پڑھ کر لگا صرف ہم ہی نہیں اس وقت دنیا بھر میں بہت سی مائیں ایک جیسا غصہ محسوس کر رہی ہیں ۔ دیکھو تو یہ سب وه ہی باتیں ہیں جو تم اور میں محسوس کرتے ہیں ۔
جیسے وه لکھتی ہیں کہ "ہم اس دنیا کے حالات پر غصہ میں ہیں۔ اس بات پر کہ جو کھانا ہم خریدتے ہیں وہ مہنگا اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہم ان عجیب و غریب بیماریوں پر غصہ میں ہیں جن کا علاج ہم سوشل میڈیا سے تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ ہمیں غصہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہیں اور نہیں جانتے کہ انہیں آج کیا سکھایا گیا ہے ۔ ہمیں یہ بھی غصہ ہے کہ ہم اپنے لیے دن میں ایک لمحہ بھی نہیں نکال پاتے۔
ہمیں یہ بھی غصہ ہے کہ ہمارے بچے فطرت سے کٹے ہوئے ہیں، اور اسکرین پر گھورنے کی وجہ سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو گئی ہیں۔
ہمیں اپنے شوہروں پر بھی غصہ آتا ہے، جو فون پر زیادہ دھیان دیتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف متوجہ ہوں۔
ہم اس معاشرے پر بھی غصہ کرتے ہیں جہاں سچ بولنا قدامت پسندی سمجھا جاتا ہے۔
ہم غصہ میں ہیں کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہ عورت نہیں بن سکے جو بننا چاہتے تھے۔
پھر ہم خود پر غصہ ہونے لگتی ہیں۔ ہماری خوبصورتی، ہماری چمک جیسے کہیں دب جاتی ہے۔
دیکھو تو ہم تم تو سمجھتے رہے یورپ کی ماں آزاد ہے اس بی بی کے دکھڑے تو ہمارے ہی جیسے ہیں ۔ اچھا یہ اس لیے بولا کہ تم مسکرا دو اور سمجھ جاؤ یہ سب تم اکیلی نہیں جھیل رہیں ۔
وہ یہ بھی لکھتی ہے کہ یہ سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔
"یہ سب do-able ہے” ۔ بس تھوڑا سا رکنا ہے، سانس لینا ہے، دل کو ٹٹولنا ہے۔
اس نے بتایا کہ اگر ہم روزانہ صرف 15 منٹ بھی خود سے بات کریں ۔ ہم خود کو بتائیں کہ ہم ناکام نہیں ہیں ۔
اس حقیقت کو دہرائیں کہ ہم رب کے بندے ہیں ۔ شکر ادا کریں ۔ خدا سے بات کریں ۔ دعائیں مانگیں ۔
دل سے کڑواہٹ نکال دیں کیوں کہ رب صاف دل کو پسند کرتا ہے ۔ دل بدلے گا تو بہت کچھ بدل جاۓ گا ۔
ساتھ ہی سانس کی مشق یوگا یا چہل قدمی یا کوئی مثبت سرگرمی کریں تو ان خوب صورت خیالات سے ہم بدلنا شروع ہو جائیں گے ۔ ہمارے ذہن ہمارے جسموں پر اس کا پازٹیو اثر آئے گا ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری باتیں نیورولوجیکل ایکسپرٹس کی ہی تجویز کرده ہیں ۔ یہ سب کوئی میجک نہیں، بلکہ ایک مسلسل مشق ہے۔ ہم یہ سب کر سکتے ہیں۔ تم بھی کر سکتی ہو ۔
تمہاری وہی پیاری مسکراہٹ واپس آ سکتی ہے۔ تم دوبارہ وہ ماں بن سکتی ہو، جو بچوں کو گود میں لے کر ان کی خوشبو سے خود کو زندہ محسوس کرو نہ کہ ان پر چیخ چلا کر خود کو مزید تھکا دو ۔
یاد رکھو، غصہ اصل دشمن نہیں ہوتا ۔ بے بسی ہوتی ہے۔ اور اس بے بسی کا حل خدا کی طرف پلٹنے میں ہے۔
اپنے آپ کو معاف کر دو گلٹ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم وہی لڑکی ہو جو پہلے تھیں صرف تھکی ہوئی ہو ۔ تمہیں بس آرام چاہیے محبت چاہیے اور تھوڑا سا حوصلہ۔
ہاں ایک اور ضروری چیز جسے میں نے آزمایا وہ یہ ہے کہ رات جتنی بھی تھکی ہو بچوں کوسلانے سے پہلے دس منٹ تک ان کے ساتھ رہو ۔ انہیں پیار کرو ان سے بات کرو ۔ کوئی کہانی پڑھ کر سناو ۔ اپنے ہی بچپن کے قصے سناو تم بہت شرارتی تھیں تمہارے پاس انہیں ہنسانے کو بہت کچھ ہوگا ۔ انہیں ہر روز بہت سا پیار کر کے سلاو ۔ پھر جب خود سونے لگو اور ریلز دیکھ دیکھ کر تھک جاو تب سونے سے ذرا پہلے سورہ بقره کی کچھ آیات پڑھ لیا کرنا جتنا آسانی سے پڑھ سکو ۔ ان شا اللہ تم میں اور بچوں میں بہت ٹھہراو آئے گا ۔ بچے کی چخ چخ جھیلناا آسان ہو جاۓ گا ۔
چندا اُمید باقی ہے۔ ہم سب کچھ نہیں بدل سکتے، لیکن ہم اپنا دل، اپنی سوچ اور اپنے چھوٹے سے گھر کو تو بدل اور سنوار سکتے ہیں ۔
میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں، چاہو تو روزانہ پانچ منٹ ایک دوسرے کو "دل کی خبر” دے دیا کریں۔ بات کیا کریں ۔ اب سے تمہارے وائس میسجز کا انتظار کیا کروں گی ۔
تمہاری باجی
سعدیہ مسعود