‘کفن میں سمیٹنا مشکل تھا’ ، باجوڑ میں22 سالہ نوجوان ڈرون حملے کا شکار

باجوڑ کی تحصیل لوئی ماموند کے علاقے زگئی میں گزشتہ روز بائیس سالہ نوجوان محب اللہ ڈرون حملے میں اس وقت جاں بحق ہوگئے جب وہ انٹرنیٹ کی تلاش میں اپنے گھر کے قریب کھیتوں کی جانب نکلے تھے۔

ان کا ایک وائس پیغام بھی واٹس ایپ پر زیرِ گردش ہے جس میں وہ انٹرنیٹ کی خراب حالت کی شکایت کر رہے ہیں اور کرفیو کی وجہ سے اپنی تنگی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ وائس پیغام کے مطابق “وہ باہر اس لیے بیٹھے ہیں کیونکہ یہاں انٹرنیٹ کی رفتار مناسب ہے اور جلد ہی دوست کی طرف جانے والے ہیں۔”

محب اللہ کے دوست عابد علی (فرضی نام) نے تاشقند اُردو کو بتایا کہ “ساڑھے تین بجے کے قریب محب اللہ انٹرنیٹ کی غرض سے گھر کے ساتھ کھیتوں میں ایک پگڈنڈی پر بیٹھے تھے کہ اس دوران ڈرون کا نشانہ بن گئے۔ ان کے جسم کا ساٹھ فیصد حصہ فوری طور پر تباہ ہوگیا اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔”

محب اللہ کی نعش کی خراب حالت کی وجہ سے ان کے جنازے میں تاخیر نہیں کی گئی جبکہ کرفیو اور خوف کے باعث جنازے میں محض بیس سے پچیس افراد نے شرکت کی۔

عابد علی نے بتایا کہ “محب اللہ کا جنازہ اتنا آسان نہیں تھا۔ ان کے جسم کے ٹکڑوں کو کفن میں سمیٹنا مشکل ہو رہا تھا۔ ہمارے گاؤں میں تابوت کا کوئی انتظام نہیں ہے، اس کے لیے پندرہ کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے جگہ جگہ رابطے کیے اور مقامی سیاستدانوں کو بھی آگاہ کیا لیکن کسی کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔”

عابد علی کے مطابق “تابوت کا انتظام نہ ہونے کے بعد مقامی بڑھئی نے ایک صندوق بنایا، جس میں محب اللہ کو سپردِ خاک کیا گیا۔ دوسری جانب جنازے کا وقت بھی بہت محدود تھا کیونکہ مقامی لوگوں میں دوبارہ ڈرون گرنے کا خدشہ موجود تھا۔”

محب اللہ کے والد نیاز محمد چار سال قبل ایک روڈ حادثے میں زخمی ہوئے تھے اور دو سال تک بسترِ مرگ پر رہنے کے بعد دنیا سے چل بسے تھے۔ محب اللہ سرگودھا میں ایک معمولی سا کاروبار کرتے تھے اور اس کے ذریعے اپنے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ گھر میں ان کی والدہ، چھ بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔

ہم نے ان کے خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے ہمسائے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ آج صبح ہی گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

عابد علی کہتے ہیں کہ “زگئی مرکزی شہر سے بہت دور ایک سرحدی علاقہ ہے۔ یہاں عام حالات میں انتظامیہ کی آمد بہت محدود ہوتی ہے جبکہ آپریشن کے بعد تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔”

ڈی سی آفس باجوڑ سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں جبکہ ڈی پی او آفس نے بتایا کہ “یہ کیس ہمارے پاس نہیں بلکہ سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے اور جلد ہی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کا عمل مکمل ہوجائے گا۔”

ڈی پی او آفس نے یہ بھی تصدیق کی کہ محب اللہ زگئی سے تعلق رکھنے والے ایک سویلین نوجوان تھے، جو بدقسمتی سے ڈرون حملے کا شکار ہوگئے۔

سیاسی اور مقامی عمائدین کی مخالفت کے باوجود خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کا “ٹارگٹڈ” آپریشن جاری ہے۔ ہزاروں خاندان حکومت کی جانب سے قائم عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

29 جولائی کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے باجوڑ کے 16 مقامات پر تین دن کے لیے “آپریشن سربکف” کا آغاز ہوا تھا، جس میں مقامی آبادی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں باجوڑ کے عوام نے ہاتھوں میں قرآن اٹھائے عمری چوک میں آپریشن کے خاتمے کے لیے دھرنا دیا تھا۔

امن و امان کی بگڑتی ہوئی اس صورتِ حال کے پیش نظر یکم اگست کو باجوڑ کے سیاسی اور مقامی عمائدین نے جماعتِ اسلامی کے رہنما صاحبزادہ ہارون الرشید کی قیادت میں 24 ارکان پر مشتمل جرگہ تشکیل دیتے ہوئے فریقین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔

اس دوران جرگہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سات دور مکمل کیے جبکہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت عسکری قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں۔ تاہم، مذاکرات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد ضلعی انتظامیہ نے 11 اگست کو جاری اعلامیے میں کہا کہ باجوڑ کے کچھ علاقوں میں 12 جبکہ بعض میں 72 گھنٹوں کے لیے 14 اگست تک عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ پابندی کے دوران گھروں میں رہیں، بصورتِ دیگر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔

اس دوران 13 اگست کو باجوڑ کے علاقے ایراب ماموند میں گھر پر گولہ گرنے کے واقعے میں ایک خاتون اپنے دو بچوں سمیت جاں بحق ہوئی تھیں، جس پر باجوڑ کے عوام نے عمری چوک میں سیاہ پرچم تھامے دھرنا دیا تھا۔ تاہم، انتظامیہ نے بالترتیب 16 اور 21 اگست تک باجوڑ کے متعدد مقامات میں دفعہ 144 اور کرفیو کو توسیع دی۔

مجموعی طور پر اس آپریشن کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں تین، تین جبکہ اب ایک نوجوان سویلین کی شہادت کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں