سکھوں کے مذہبی اور روحانی پیشواء سنت بابا پریم سنگھ کا تعلق گجرات کے علاقے ٹانڈا سے تھا۔ سنت بابا پریم سنگھ سماجی اور مذہبی رہنما کے ساتھ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔ اس کے علاوہ وہ گولڈن ٹیمپل میں سیوک اوراعلی عہدیدار رہ چکے تھے۔
بابا پریم سنگھ سماجی تبدیلی کے لیے تعلیم کو اہم ذریعہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف تعلیم کے لیے آگاہی مہم چلائی بلکہ عملی طور پر تعلیمی اداروں کے قیام کا آغاز بھی کیا۔
گجرات سے تعلق کی بنا پر انہوں نے 1921 میں پہلا اسکول ‘گورو گوبندھ سنگھ خالصہ لوبانہ ہائی اسکول’ کے نام سے قائم کیا۔ اس کے بعد انہوں نےشیخوپورہ اور گجرات کے دیگر اضلاع میں اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔
پاکستان یونین ناروے اور ڈپٹی کمشنر گجرات کے لیے معاون برائے ثقافت و سیاحت مبین الرحمان نے تاشقند اردو کو بتایا کہ سابق صدر پاکستان فضل الہی چوہدری اپنے زمانہ طالب علمی میں تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ان کی فیس بھی سنت بابا پریم سنگھ نے ادا کی تھی۔
مبین ایک عرصے سے پاکستان کے تاریخی مقامات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ سنت بابا پریم سنگھ سے منسوب خصوصی میوزیم کو بھی اس وقت وہ ذاتی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ’ہمیں کچھ سکھ خاندانوں نے رابطہ کیا کہ آپ بابا پریم سنگھ کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ان پر کام کریں۔ اس لیے ان سے متعلق ایک میوزیم قائم کیا جا رہا ہے، جو اگلے بیس دنوں میں نمائش کے لیے لگ جائے گا۔

سنت بابا پریم سنگھ کی سماجی اور سیاسی زندگی
سنت بابا پریم سنگھ کی تعلیم کے علاوہ بھی دیگر سماجی اورسیاسی خدمات ہیں۔ وہ1882 میں گجرات کے گاؤں کھوڑی دنا سنگھ میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی محنت، مضبوط ارادے اور بے لوث خدمت کی ایک مثال ہے۔
سنت پریم سنگھ کا پختہ یقین تھا کہ بغیر کسی لالچ کے دوسروں کی خدمت کرنا ہی اصل خدمت ہے، جسے وہ “نِشکام سیوا” کہتے تھے۔ سنت بابا پریم سنگھ کا اہم مقصد “امرت سنچار” کوبھی عام کرنا تھا، یعنی سکھوں کو اپنے مذہبی اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دینا۔ 1911-1912 میں انہوں نے یہ کام اپنے آبائی گاؤں کھوڑی اور گجرات کے دوسرے دیہاتوں سے شروع کیا۔
سنت بابا پریم سنگھ ذات پات کے نظام کے بھی شدید خلاف تھے۔اس وجہ سے 1927 میں انہوں نے شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی پر زور دیا کہ وہ “جات پات توڑو متا” (ذات پات کے خلاف قرارداد) منظور کرے۔
بابا پریم سنگھ نے سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1936 میں ممبر صوبائی اسمبلی بنے۔ اس کے علاوہ وہ 1937 اور پھر 1948 میں ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی رہے۔
سنت بابا پریم سنگھ 2 جون 1950 کو وفات پا گئے، لیکن ان کی تعلیمات، بے لوث خدمات اور سماجی اصلاحات کے لیے کی گئی کوششیں آج بھی پنجاب کی تاریخ میں ایک روشن نشان کی طرح ہیں، بلکہ مبین الرحمان کی سرپرستی میں قائم ہونے والےسنت پریم سنگھ میوزیم ان کے بارے میں نئی نسل کو مزید آگاہی دینے کے بھی کام آئے گا۔
مبین الرحمان کہتے ہیں کہ’ اس میوزیم میں ان کی زندگی، تعلیمی خدمات، قائم کردہ اسکولوں کی تفصیلات، آزادی سے قبل اسکول کے پرنسپلز اور فارغ التحصیل طلبہ پر مشتمل پوری تاریخ موجود ہوگی۔
مبین کا ماننا ہے کہ گجرات میں یہ سکھوں سے متعلق اپنی نوعیت کا پہلا میوزیم ہے، جو ٹانڈا اسکول کے اندر ہی قائم کیا جا رہا ہے، جسے بابا پریم سنگھ جی نے بنایا تھا۔
مبین الرحمان کا یہ پہلا منصوبہ نہیں، وہ معمول کے مطابق پاکستان اور گجرات میں تاریخی مقامات کو دریافت کرتے رہتے ہیں۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں مبین کہتے ہیں کہ گجرات میوزیم میں ان کے نام سے ایک نجی گیلری بھی موجود ہیں،جہاں ان کے کام کو نمائش کے لیے لگایا گیا ہے۔
مبین نے بتایا کہ’بنیادی طور مجھے اپنے والد مرحوم کی طرف سے کافی تحریک ملی۔ وہ پاکستان کے تاریخی مقامات میں کافی دلچسپی لیتے تھے اور ہمیں اس سے متعلق آگاہ رکھتے تھے۔والد مرحوم پیشے کے لحاظ سے صحافی تھےاور ہمیں پاکستان کے مختلف مقامات کی سیر کے دوران اس کی تاریخ بتاتے تھے۔وہاں سے آثار قدیمہ کے حوالے سےتجسس پیدا ہوا ، جو رفتہ رفتہ شوق کی صورت ابھر کر سامنے آیا۔’
مبین نے اسکول اور کالج کے زمانے میں بھرپور طریقے سے جب ان مقامات کو دریافت کرنے کی کوشش کی تو انہیں کافی داد اور توجہ ملی۔ یہاں سے باضابطہ طور پرانہوں نے خود کو اس کام کے سپرد کیا۔
مبین نے کہا کہ’ پہلے مرحلے میں مجھے بدھ مت کی باقیات خاص طور پر ان کے سٹوپااور تاریخی قلعوں کو دریافت کرکے اس پر کام کرنے کا شوق تھا۔ ان میں ابتدائی کام قلعوں کے اوپر کیا۔ اس وقت میرے پاس پاکستان کے تمام تاریخی قلعوں کی فہرست موجود ہیں۔ صرف زبانی کلامی تاریخ کے علاوہ نقشے کے اوپر ان قلعوں کے مقامات کی نشاندہی بھی کر رکھی ہے۔اس وقت پاکستان میں 273 کے قریب ایسے قلعے ہیں جو ظاہری طور پر مکمل نظر آتے ہیں جبکہ 300 سے زائد قلعے نیم ساختہ ہیں۔’
‘اس کے بعد جب کبھی میں گجرات کے باہر گیا تو اس سوال کا سامنا کرتا تھا کہ آپ کے علاقے کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور وہاں دیکھنے کے لیے کون سے تاریخی مقامات ہیں؟اس سوال کے تعاقب کے میں نے سال 2019 میں گجرات پر خصوصی توجہ دی اور ایک سال کے عرصے میں ایک سو سے زائد مقامات کو دریافت کرلیا تھا۔’
سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں تمام ضلعی انتظامیہ کو یہ ہدایت جاری ہوئی تھی کہ متعلقہ علاقے میں موجود تاریخی مقامات کی فہرست شعبہ سیاحت کو فراہم کی جائے۔مبین کے مطابق اس وقت گجرات واحد ضلع تھا جہاں سے 98 مقامات کی نشاندہی کرکے اس کی فہرست شعبہ سیاحت کو دی گئی تھی۔ گجرات کے ڈپٹی کمشنر اس کاوش کے نتیجے میں تمغہ امتیاز کے لیے بھی منتخب ہوئے تھے۔
ان مقامات کی نشاندہی میں مبین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس کے اعزار کے طور پر کشمنر گجرانوالہ نے گجرات میوزیم میں ان کے نام سے منسوب ایک خصوصی گیلری تعمیر کروائی، جو مبین کے مطابق پاکستان میں کسی کے نجی نام سے یہ پہلی گیلری ہے۔
مبین نے برٹش ہائی کمیشن کے ساتھ اشتراک میں اس علاقے میں پورس اور سکندر اعظم کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کی باقیات پربھی کام کیا اور وہاں سے دریافت ہونے والی اشیاء کو ماہرین آثار قدیمہ کی تصدیق کے بعد گجرات میوزیم میں نمائش کے لیے لگایا۔