پہلگام واقعہ: ترک سفیر کی وزیراعظم پاکستان سے ملاقات میں پاکستان کی حمایت کا اعلان

وزیر اعظمپاکستان شہباز شریف سے ہفتے کے روز ترک سفیر،ڈاکٹر عرفان نزیر اوغلو نے ملاقات کی، جس میں ترک سفیر نے پاک-بھارت کشیدگی سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ، ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا میں امن و امان کی صورتحال پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ، ترکیہ کی حمایت دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات کی غماز ہے۔

وزیر اعظم نے ترک سفیر کو بتایا کہ، بھارت جان بوجھ کر پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کی سازش کر رہا ہے، لیکن اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ، واقعے کے بعد بھارت کی اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان نے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی کے ساتھ 152 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، بھارت کے حالیہ اقدامات پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ، پاکستان نے پہلگام واقعے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی ہے، جس کا بھارت نے تاحال جواب نہیں دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ، پاکستان ایسی کسی بھی تحقیقات میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے اور اگر ترکیہ اس عمل میں شامل ہو تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ، پاکستان اس وقت اقتصادی بحالی اور ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس کے لیے خطے میں امن و استحکام ناگزیر ہے۔

ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نزیر اوغلو نے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، ترکیہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن قائم رکھنے کے لیے پاکستان کے مؤقف کا حامی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال میں تحمل اور بردباری سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں