پاک۔بھارت کشیدگی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار

پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، بدھ کے روز مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ہنگامی صورتحال کی کیفیت رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 3 ہزار 500 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ گراوٹ کا شکار ہو گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، سرمایہ کاروں کی بے یقینی اور بھارتی فوجی کارروائی کے خدشات نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا ہے۔
صبح 11 بج کر 26 منٹ پر اسٹاک مارکیٹ کا بینچ مارک انڈیکس 3,679 پوائنٹس کی بڑی کمی کے بعد 111,192 پوائنٹس پر آ گیا، جو منگل کو 114,872 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ معاشی ماہرین نے اس کمی کو خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی سے جوڑا ہے، خاص طور پر بھارت کی جانب سے ممکنہ حملے کی خبروں کو اس مندی کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو، محمد سہیل نے کہا کہ، آئندہ چند دنوں میں ممکنہ حملے کی اطلاعات نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا ہے، جبکہ اے کے ڈی سیکیورٹیز کے اویس اشرف نے وزیر اطلاعات کی رات گئے دی گئی پریس بریفنگ کو سرمایہ کاروں میں بےچینی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
چیز سیکیورٹیز کے یوسف ایم فاروق اور عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ ہیڈ، ثنا توفیق نے بھی اس صورتحال کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بگڑتی ہوئی سیاسی کشیدگی سے جوڑا۔ ان کے مطابق، بھارتی فوج کی جانب سے کارروائی کی ممکنہ تیاری، مارکیٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔
یاد رہے کہ، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے منگل کی رات بیان میں کہا تھا کہ، پاکستان کے پاس مصدقہ انٹیلیجنس رپورٹس موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ، بھارت اگلے 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کا جواز وہ پہلگام حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کے بے بنیاد الزام سے نکال رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ، پاکستان بھارت کے خطے میں منصف اور جلاد بننے کے رویے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں