‘امن ہر شخص کا خواب ہے’، ویتنام میں جنگ کے خاتمے کی 50 ویں سالگرہ

بدھ کے روز جنوبی ویتنام کے شہر سائگون میں ویتنام کی جنگ کے خاتمے کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک عظیم الشان فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پہلی بار چین، لاؤس اور کمبوڈیا کے فوجیوں کے دستوں نے بھی ویتنامی فوج کے ساتھ مارچ کیا۔

اس تاریخی پریڈ کو دیکھنے کے لیے ہزاروں افراد جوق در جوق پہنچے، جن میں سے بیشتر نے رات سے ہی اپنی جگہوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ شرکاء، جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی، جوش و خروش سے سرخ جھنڈے لہرا رہے تھے اور حب الوطنی کے ترانے گا رہے تھے۔ فضا اس وقت مزید حب الوطنی سے سرشار ہو گئی جب ہیلی کاپٹروں نے قومی پرچم کے ساتھ آزادی محل کے قریب فضا میں پرواز کی اور جیٹ طیاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

اس پریڈ میں تقریباً 13,000 افراد نے حصہ لیا، جن میں فوجی اہلکار، ملیشیا کے ارکان، سابق فوجی اور مقامی شہری شامل تھے۔ یہ جنگ، جس کا آغاز 1954 میں ہوا تھا، 30 اپریل 1975 کو اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب کمیونسٹ زیرِ انتظام شمالی ویتنام نے امریکہ کی حمایت یافتہ جنوبی ویتنام کے دارالحکومت سائگون پر قبضہ کر لیا۔ فتح کے فوراً بعد شہر کا نام شمالی ویتنام کے بانی رہنما ہو چی منہ کے نام پر رکھ دیا گیا۔

پریڈ سے قبل خطاب کرتے ہوئے ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ اور ملک کے اعلیٰ رہنما تو لام نے اس فتح کو “ظلم پر انصاف کی جیت” قرار دیا۔ انہوں نے ہو چی منہ کے مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “ویتنام ایک ہے، ویتنام کے لوگ ایک ہیں۔ دریا خشک ہو سکتے ہیں، پہاڑ کٹ سکتے ہیں، لیکن یہ سچ کبھی نہیں بدلے گا۔”

سائگون کا سقوط، امریکہ کی جانب سے اپنے آخری جنگی دستوں کو واپس بلانے کے تقریباً دو سال بعد، اس دو دہائیوں پر محیط خونی تنازعے کے خاتمے کا اعلان تھا، جس میں تقریباً 30 لاکھ ویتنامی اور 60,000 کے قریب امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اپنی تقریر میں، تو لام نے شمالی ویتنام کی فتح کا سہرا سابق سوویت یونین اور چین کی “بڑی حمایت” کے ساتھ ساتھ لاؤس اور کمبوڈیا کی “یکجہتی” کو بھی دیا۔ انہوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کے “ترقی پسند” لوگوں کی حمایت کو بھی سراہا۔

جنگ کے خاتمے کے بعد ویتنام نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔ اس سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 30 ویں سالگرہ ہے۔ 2023 میں، ویتنام نے امریکہ کو اپنا ایک جامع اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات چین اور روس جیسی اعلیٰ سطح پر پہنچ گئے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں