گرمیوں کے موسم میں ہیٹ اسٹروک اور جسم میں پانی کی کمی ایک عام مسئلہ ہے، ایسے میں تربوز جیسے پھل جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور ٹھنڈک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ تربوز تقریباً 90 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ماہرین اسے گرمیوں کا لازمی پھل قرار دیتے ہیں جو نہ صرف پیاس بجھاتا ہے بلکہ جسم کو توانائی بھی بخشتا ہے۔
میڈیا رپورٹس اور ماہرین غذائیت کے مطابق تربوز کھانے سے گیس، تیزابیت یا دیگر ہاضمے کے مسائل پیدا نہیں ہوتے بشرطیکہ اسے صحیح وقت پر کھایا جائے۔ دن کے اوقات میں خاص طور پر دوپہر کے وقت تربوز کھانے سے جسم کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے، اور گرمی کے اثرات سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ تربوز کھانے سے معدہ بھی پرسکون رہتا ہے اور زیادہ کھانے سے بچا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے بھی یہ مفید پھل ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تربوز کو صبح سویرے یا کھانے سے کچھ دیر پہلے کھانے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ خالی پیٹ تربوز کھانے سے جسم ہلکا محسوس کرتا ہے اور ہاضمہ بھی بہتر رہتا ہے۔ تاہم رات کے وقت تربوز کھانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ اس وقت اسے کھانے سے جسم میں پانی کی سطح غیر ضروری طور پر بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں بار بار پیشاب آنے کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے اور نیند بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ کھانے کے فوراً بعد تربوز کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ عمل گیس، بدہضمی اور پیٹ میں بھاری پن جیسی تکالیف کو جنم دے سکتا ہے۔ تربوز کو فریج سے نکال کر فوراً کھانا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا کیونکہ یہ گلے یا معدے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ تربوز کو تھوڑی دیر کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے اور پھر کھایا جائے۔
بھارتی ماہر غذائیت ڈاکٹر انجلی مہتا کا کہنا ہے کہ صبح سویرے تربوز کھانا سب سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ہاضمے میں مدد دیتا ہے بلکہ جسم کو دن بھر ہائیڈریٹ بھی رکھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کھانے کے بعد تربوز کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پیٹ میں گیس اور ہاضمے کی دیگر شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
یوں تربوز کا استعمال اگر دن کے صحیح وقت پر کیا جائے تو یہ گرمیوں میں ایک قدرتی ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ صرف جسم کو تروتازہ رکھتا ہے بلکہ کئی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد دیتا ہے۔