پاکستان: غیر ملکی کھلاڑیوں کیلئے شہر بند نہ کریں، اس سے اچھا تاثر نہیں جاتا، لاہور ہائیکورٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کےلاہور ہائی کورٹ نے اسموگ کی روک تھام سے متعلق کیس میں موٹر سائیکل رکشوں کو شہر کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے ان پر کنٹرول ضروری قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ، اگر انہیں نہ روکا گیا تو یہ پورے شہر میں پھیل جائیں گے۔ عدالت نے موٹر سائیکل رکشے بنانے والی کمپنیوں کو بند کرنے اور تین ماہ میں ریگولیٹ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے ٹریفک جام، سیکیورٹی بندشوں اور اسموگ کے باہمی تعلق پر بھی سخت اظہار خیال کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ، مال روڈ پر مظاہرین کیوں بیٹھے ہیں؟ اور حکومت کو ہدایت کی کہ، مظاہرین کو کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے، تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔
عدالت نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جیسے ایونٹس کے دوران شہر بھر کی سڑکیں بند کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، کھلاڑیوں کو سیکیورٹی دینا ضروری ہے، لیکن اس کے لیے پورے شہر کو بند کرنا درست نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ، ایسی پالیسیوں سے عالمی سطح پر یہ تاثر جاتا ہے کہ، پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے، جبکہ 10 منٹ کی ٹریفک بندش سے بھی آلودگی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
سماعت کے دوران سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ، بڑے ایونٹس کے دوران سڑکیں بند نہ کرنے کی پالیسی پہلے بھی اختیار کی گئی ہے اور ایسی سیکیورٹی سے غیر ملکی مہمانوں پر بھی منفی تاثر پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ، بھکاریوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، جبکہ موٹر سائیکل رکشوں پر پابندی کے لیے سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کر دی گئی ہے۔
عدالت نے اس نکتے پر زور دیا کہ، موٹر سائیکل رکشوں کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے ،کیونکہ ان سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ،بلکہ یہ سڑکوں پر حادثات کی بڑی وجہ بھی بن چکے ہیں۔ سی ٹی او نے عدالت کو بتایا کہ، موٹر سائیکل رکشوں کے حادثات میں اب تک 10 افراد جان سے جا چکے ہیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ، آئندہ سماعت پر موٹر سائیکل رکشوں سے متعلق بھیجی گئی سمری پر وزیراعلیٰ پنجاب کا جواب پیش کیا جائے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں