پاکستان بھر میں آج عید الفطر مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے

پاکستان بھر میں آج عید الفطر مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ ہفتے کی شام ملک کے مختلف حصوں میں شوال کا چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئیں، جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ، مولانا عبدالخبیر آزاد نے باضابطہ طور پر چاند نظر آنے کا اعلان کیا۔
مولانا عبدالخبیر آزاد کے مطابق، ملک بھر میں مختلف مقامات سے چاند دیکھنے کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد عید الفطر کا اعلان کر دیا گیا۔ شوال کا چاند نظر آتے ہی ملک بھر میں عید کی خوشیوں کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں، اور آج ملک کے طول و عرض میں یہ مبارک دن پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نمازِ عید کے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں، جن میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ نمازِ عید کے بعد ملکی سلامتی، استحکام، ترقی، خوشحالی اور امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔
عید کی خوشیوں میں روایتی میٹھے پکوان بھی شامل ہیں۔ گھروں میں شیر خرما، کھیر، مٹھائیاں، کیک اور دیگر لذیذ پکوان تیار کیے جا رہے ہیں، جن سے مہمانوں کی تواضع کی جا رہی ہے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے عید کے موقع پر پوری قوم اور عالمِ اسلام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ، یہ دن رمضان المبارک کی عبادات، صبر اور قربانی کے بعد اللہ کی طرف سے ایک انعام ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ، ہمیں اس خوشی کے موقع پر بھائی چارے اور یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے ،تاکہ پاکستان ایک مضبوط اور خوشحال ملک کے طور پر ابھر سکے۔
صدرِ مملکت نے کشمیری عوام کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ، اللہ تعالیٰ جلد انہیں آزادی کی نعمت عطا کرے اور وہ بھی امن و خوشحالی کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی قوم کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کی اور اس موقع پر ملک میں اتحاد، محبت اور ترقی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ، عیدالفطر اتحاد، قربانی اور شکر گزاری کی علامت ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج کے افسران اور جوان اس عید پر اپنے گھروں سے دور رہ کر ملک کا دفاع کر رہے ہیں، تاکہ وطن میں امن اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عید الفطر کا دن ہمیں ان سپاہیوں کی قربانیوں کی قدر کرنے اور ان کے اہلِ خانہ کے عزم و حوصلے کو سراہنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ،ہمیں اس خوشی کے موقع پر یکجہتی، محبت اور احترام کے جذبے کو فروغ دینا چاہیے اور ان قومی ہیروز کو یاد رکھنا چاہیے جو ملک و قوم کی حفاظت کے لیے مسلسل خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں