یہ آج سے ڈھائی برس پہلے کی بات ہے جب پشاور کے علاقے بشیر آباد میں تندور پر ایک بچہ روٹیاں بیچتے ہوئے اخباری تراشے محفوظ کرتا تھا۔ ذرا وقت میسر آیا، کوئی ٹکڑا اٹھا کر پڑھنا شروع کردیا۔
اس بچے کا نام مزمل ہے اور یہ اس کا معمول تھا لیکن ایک دن محمد عامر کی نظر اس پر پڑی اور اس کی زندگی میں ایک تعمیری انقلاب کا پیغام لائی۔ محمد عامر روٹیاں لینے کی غرض سے تندور پر گیا تو دیکھا کہ مزمل اخبار پڑھنے میں مصروف ہے تو اس نے بچے سے پوچھا کہ آپ کو اس کی سمجھ آرہی ہے؟
“سمجھ تو نہیں آرہی لیکن پڑھنے کا شوق ہے”، مزمل کا یہ جملہ اگلے ڈھائی برس میں سینکڑوں بچوں کی تقدیر بدلنے والا تھا۔ محمد عامر پشاور میں قرطبہ یونیورسٹی سے شعبہ اسلامیات پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ” اس دن میرے دل میں خواہش نے جنم لیا کہ ان بچوں کے لیے ایک ادارے کا قیام لازمی ہے۔ وہ بچے جو چاہتے ہیں کہ ان کے کندھوں پر بھاری اوزان کی بجائے کتابوں کے بستے کا بوجھ ہو”

یہ ارادہ لیے محمد عامر ایک پرائیویٹ اسکول چلانے والے دوست کے ہاں گئے اور ان سے ایک کمرے کی صورت معاونت مانگی۔ دوست کا اخلاص تھا کہ وہاں کمرہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے مل گیا۔ یہاں سے “پشاور کریسنٹ اسکول” کی بنیاد ڈال دی گئی۔
یہ ادارہ اسکول سے باہر بچوں کے لیے محمد عامر کی ذاتی حیثیت سے ایک پراجیکٹ ہے۔ اس منفرد اور خوبصورت ادارے میں تین قسم کے طلبہ مفت زیر تعلیم ہیں۔ پہلی قسم ان بچوں کی جو گلیوں اور محلوں میں تعلیم کے زیور سے نابلد تھے۔ دوسری قسم ان بچوں کی ہیں جو بازاروں میں مختلف دکانوں اور مقامات پر محنت مزدوری اور مشقت کے کام کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سکول جانے سے قاصر ہیں۔

ان میں وہ طلبہ بھی ہیں جن کے والدین جسمانی معذوری کی بناء پر تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے۔ تیسری قسم مہاجرین لڑکیوں کی ہیں، جو سال دو ہزار اکیس میں افغانستان کو خیر آباد کہتے ہوئے بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان آئے ہیں۔
محمد عامر نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “ان بچوں کو جمع کرنے کے لیے تندور کی دکان کے قریب ہی مستری خانوں، گلیوں اور محلوں میں سروے کرنے کے بعد ہم نے ان کی ایک فہرست مرتب کی۔ آغاز میں مزمل سے ہوتے ہوئے بات اس کے بھائی اور دوست مدثر تک پہنچ گئی۔ پہلے مرحلے میں پانچ مزدور بچوں کو لے کر تعلیم کا ایک سلسلہ شروع کیا اور آج ایک سو بیس یتیم، مزدور، اور غریب بچے تعلیم سے روشناس ہو رہے ہیں”۔
کہتے ہیں کہ غربت کا درد انسان کی روح اور دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے لیکن علم کی مہک میں اس کی بحالی کا سامان بھی موجود ہیں۔ محمد عامر نے بتایا کہ “دکانداروں اور مستری خانوں کے مالکان کو منانے کا مرحلہ ہمارے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ ان بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر پیسے ملتے تھے۔ ہم ان مالکان سے ایک آدھ گھنٹے کا وقت مانگتے تھے۔ تاہم، تین چار روز میں نتائج دیکھتے ہوئے وہ بھی مطمئن ہوگئے۔ البتہ، ایسے مالکان بھی سامنے آئیں جنہوں نے اپنے ہاں مزدوری کرنے والے بچوں کو خود ہمارے حوالے کیا”۔
محمد عامرکے مطابق “والدین کا رد عمل بھی کافی مثبت تھا۔ ان کی تائید حاصل کرنے کے لیے ہم نے ڈونرز سے گزارش کی کہ یہ بچے جو تین چار سو روپے سارے دن کی محنت کے بعد گھر دیتے ہیں، آپ ان کا اہتمام کیا کریں۔ اس کے نتیجے میں ڈونرز کے توسط سے بچوں کے گھر وہ پیسے پہنچانے کا کام شروع ہوا۔ ایسے میں دونوں کاموں میں کسی خلل اور رکاوٹ کی گنجائش ختم کردی گئی”۔
آج پشاور کریسنٹ اسکول ایک رسمی ادارہ ہے جہاں ساتویں جماعت تک طلبہ مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔گزشتہ سال ستمبر میں ایک نئے عزم کے ساتھ نئی عمارت میں اس کا باقاعدہ آغاز بھی ہوا۔ محمد عامر اس کا سہرا بچوں کے سر باندھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ “ہمارے لیے کمپین کا ذریعہ خود یہی بچے ثابت ہوئے۔ ادارے کے قیام کے بعد بچوں نے اپنی کمیونٹی میں ہماری تشہیر کی اور دیکھا دیکھی دیگر بچے بھی متوجہ ہوئے”۔
اس وقت پشاور کریسنٹ اسکول میں ایک سو بیس بچے زیر تعلیم ہیں، جن میں تیس افغان لڑکیاں بھی ہیں۔ محمد عامر کہتے ہیں کہ” ادارہ قائم ہوا تو یہ وہ دور تھا جب افغان مہاجرین نے نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کا رخ کیا تھا۔ بچوں کے کمپین کا ہی نتیجہ تھا کہ افغان لڑکیاں بھی ہمارے ادارے کا حصہ بنیں”۔

اس ادارے میں افغان لڑکیوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ محمد عامرنے خود اپنے گھر میں بھائیوں اور بہنوں سے چندہ اکھٹا کرکے ان کے لیے کتابوں سمیت دیگر ضروریات کا انتظام کیا۔ حتی کہ افغان بچوں کے لیے پشتو کے مخصوص نصاب کا بندوبست بھی کیا۔
محمد عامر سجھتے ہیں کہ “اس دوران ہمارے لیے مشکل کام بازاروں میں زندگی بسر کرنے والے ان بچوں کے لہجے اور زبان کی درستگی تھا۔ ان کی گفتگو میں شائستگی کو بحال کرتے ہوئے ایک مہذب شہری بنانے پر زیادہ وقت درکار تھا۔ یہ کلاس میں گویا ہمارے لیے پہلا مسئلہ تھا”۔
اس اسکول نے روایتی اداروں سے ہٹ کر نئی روایت قائم کی ہے۔ یہاں بچوں کو تازہ دم رکھنے کے لیے کھانے پینے کا اہتمام بھی موجود ہیں۔ محمد عامر نے بتایا کہ “ان سب بچوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہیں۔ صبح ناشتہ کیے بغیر دکانوں پر آتے ہیں، مالکِ دکان کی موجودگی میں کچھ کھالیتے ہیں تو ٹھیک ورنہ شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ “اس وجہ سے دو پہر کے بعد کلاس میں یہ بچے پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم نے ڈونرز کی مدد سے ان کے لیے کھانے پینے کا اہتمام کیا جس سے ان کی توجہ بحال ہوجاتی ہے”۔

اس اسکول کی کہانی سنتے ہوئے یہ خیال ہوتا ہے کہ اس میں معاشرے کے ہر طبقے نے اپنے تئیں مدد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مخیر حضرات سے لے کر اساتذہ تک سب نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
محمد عامر نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ “ابتدائی طور پر دوستوں نے مفت میں پڑھانا شروع کیا۔ تاہم، مفت میں انسان ایک عرصے بعد اکتا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہم نے ڈونرز کے ذمے ایک ٹیچر کے لیے تین ماہ کی تنخواء مختص کرلی اور اس سلسلے کو قائم کیا”۔

اس ادارے سے فائدہ سمیٹنے والے ایک معذور شہری عرفان اللہ ہے، جو وہیل چیئر پر بیٹھ کر کپڑے سینے کا کام کرتے ہیں۔ عرفان اللہ کی ایک بیٹی اس وقت پشاور کریسنٹ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “میرا تو اپنی بیٹیوں کو پڑھانا ایک خواب ہی تھا، جس کو میں لاکھ کوششوں کے باوجود زندگی بھر پورا نہیں کر پاتا۔ میں اس وقت بھی وہیل چیئر پر بیٹھا کپڑوں کی سلائی میں مگن ہوں۔ ایسے میں تعلیمی اخراجات کہاں سے پوری کرتا؟ جو مل جاتا ہے گھر کے راشن پر صرف ہوجاتا ہے”۔
ان کا خیال ہے کہ “یہ اسکول میری اور میرے بچوں کی زندگی میں نوید صبح کی مانند ہے۔ میری ایک بیٹی اس وقت پشاور کریسنٹ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ دوسری بیٹی ذرا بڑی ہوجائے اس کو بھی یہاں بھیجوں گا۔ اس اسکول نے میری معذوری کو میری مجبوری نہیں بننے دیا”۔