پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق، اب تک جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث 13 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔آپریشن کے باعث شدت پسند ٹرین چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم ہو گئے ہیں اور دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے مسافروں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ، طلال چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ حملے کے بعد شدت پسند متعدد مسافروں کو لے کر پہاڑی علاقوں میں لے گئے ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق، 80 یرغمالی رہائی کے بعد پانیر سے کوئٹہ کیلئے روانہ ہو چکے ہیں۔رہائی پانے والوں میں سے 26 خواتین، 11 بچے اور 43 مرد شامل ہیں۔رہائی پانے والوں کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سب کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ، رہائی پانے والے افراد چند گھنٹوں میں کوئٹہ پہنچ جائیں گے۔
آج بولان پاس، ڈھاڈر کے مقام پر دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود،سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے معصوم مسافروں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی بھی ہیں، کو یرغمال بنا رکھا ہے، دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے بھی رابطے میں ہیں،سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنیس آپریشن جاری رہے گا۔ سیکورٹی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کے دہشت گرد، افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں ہیں۔
دہشت گردوں نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنائے جانے، مشکل علاقہ ہونے کی وجہ سے پیچیدہ آپریشن انتہائی اختیاط سے کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے ضلع بولان میں منگل کے روز ایک دہشتگرد حملے میں پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں انجن ڈرائیور سمیت متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔ حملے کے بعد ٹرین پہاڑی سرنگ میں پھنس گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق، ٹرین کوئٹہ سے راولپنڈی اور پشاور کی جانب رواں تھی، جس میں سینکڑوں مسافر سوار تھے۔ حملہ ضلع کچھی (بولان) کے علاقے مشکاف اور سبی کے درمیان واقع سرنگ نمبر آٹھ کے قریب ہوا۔
دہشتگردوں نے ٹرین پر اچانک شدید فائرنگ اور دھماکے شروع کر دیے، جس سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ٹرین کے انجن ڈرائیور سمیت کئی مسافر زخمی ہوئے، جبکہ ٹرین سرنگ میں پھنس گئی۔ ریلوے حکام کا عملے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ٹرین کو یرغمال بنا لیا ہے۔ تاہم، سرکاری حکام نے ابھی تک اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی کوئٹہ اور سبی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ایمبولینسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئی ہیں، لیکن دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔ کوئٹہ اور سبی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ایمبولینسز جائے وقوعہ کی طرف بھیجی گئی ہیں۔