لاہور کی بیدیاں روڈ سے متصل گلیوں میں رمضان کے دوران رات 2 سے 3 بجے چند نوجوان گزرتے ہیں۔ “سحری لے لو، سحری لے لو” آوازیں لگاتے یہ نوجوان ہاتھوں میں سفید اور سرخ رنگ کی بالٹی تھامے روٹی اور سالن بانٹنے آتے ہیں۔ چند قدم کی مسافت پر چلنے والے ایک نوجوان کے ہاتھ میں لاؤڈ اسپیکر ہوتا ہے، جس سے ہوا کی لہروں میں جانے والی ان پرخلوص صداؤں سے اہل محلہ بیدار ہوتے ہیں۔
اگلے لمحے غریب،مستحقین، بوڑھے، بچے اور خواتین کاسہ اٹھائے گھروں سے نکلتے ہیں اور رب کریم کی بارگاہ میں تشکر کے الفاظ ادا کرتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں۔
شہر لاہور کی رونقیں رمضان میں دوبالا ہوجاتی ہے۔ جگہ جگہ دسترخوان بچھ جاتے ہیں کہ اس شہرِخاص میں کوئی بھوکا اور پیاسا نہ سوپائے۔ تاہم، معاشرے کا وہ طبقہ جنہیں سفید پوش کہا جاتا ہے ،اور جو اپنی عزت نفس کا مان رکھتے ہوئے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرتے ہیں ، ان کے لیے یہ اپنی نوعیت کا پہلا اہتمام ہے۔
اس خدمت کے روح رواں محمد عبداللہ بہاولپوری کہتے ہیں کہ’کووڈ 19 نے ہماری سماج کو معاش کے لحاظ سے جھنجھوڑ کر رکھا دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ہمیں اس کام کے آغاز کا خیال سوجھا۔ پہلے مرحلے میں علاقہ مکین کی باہمی مشاورت سے علاقے کا سروے کیا اور مستحق افراد کے گھروں کی فہرست تیار کی۔ابتدائی طور پر یہ کام کسی چیلنج سے کم نہیں تھا کیونکہ لوگوں کے گھروں تک سحری پہنچانے کا اہتمام ایک منفرد کاوش سمجھی جارہی تھی”۔
‘یہ سوال بھی سامنے تھا کہ افطاری تو ہر کوئی کرواتا ہے لیکن سحری لینے کوئی آئے گا بھی یا نہیں؟ لہذہ، ہم نے تھوڑے سے شروع کیا لیکن یہ سلسلہ انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ بڑھتا گیا”۔

لاہور واہ نمبر 8، بیدیاں روڈ سے متصل منظور کالونی کے علاقوں میں یہ کام خدمتِ انسانی ویلفیئر سوسائٹی کے تحت روز بلاناغہ جاری رہتا ہے۔
محمد عبداللہ نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ آغاز میں ہم چھ سات لوگ سحری تقسیم کرنے والے تھے جبکہ پندرہ گھروں تک اس کو پہنچایا جاتا تھا۔ ایک وقت تھا جب سلسلہ تین سو گھروں تک پہنچ گیا اور رواں سال ہم چار سو گھروں کی خدمت کر رہے ہیں’۔
محمد عبداللہ کے مطابق ‘چند سو روپوں کے ساتھ اپنی مدد آپ کے تحت ہم نے اس کام کا بیڑا اٹھایا تھا ۔ بعد ازاں، لوگ ہمارے ساتھ ملتے گئے اور اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرتے گئے’۔
انہوں نے کہا کہ’نماز تراویح کے بعد ہمارے سوسائٹی کچن میں سالن بنانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ دو بجے تک سالن تیار ہونے کے بعد نوجوانوں پر مشتمل ہماری پانچ ٹیمیں بالٹیوں میں سالن لیے مختلف علاقوں، گلیوں اور محلوں میں نکلتے ہیں۔ ان کے ہاں ایک لاوڈ اسپیکر بھی ہوتا ہے، جس سے اعلان ہوتا ہے کہ’سحری لے لو، سحری لے لو،مستحق افراد ہم سے سحری کا کھانا لے سکتے ہیں’۔
یہ کام اپنے اعلان کی طرح بلاتفریق رنگ و نسل و مذہب ہے اور اسے سنتے ہی کوئی بھی مستحق شخص باہر نکلتا ہے اور سحری لے کر اپنی بھوک مٹاتا ہے ۔اس سحری کامینیو بھی روز تبدیل ہوتا ہے۔ قورمہ، دال، قیمہ،حلیم ہر روز نیا سالن تیار ہوتا ہے۔
محمد عبداللہ کہتے ہیں کہ علاقہ مکین اس سے بہت خوش ہے۔گرم کھانا بن کر لوگوں کے گھروں میں ان کے دہلیز پر جاتا ہے، جس سے ان سفید پوش لوگوں کی عزتِ نفس مجروح نہیں ہوتی ، جو ضرورت مند ہونے کے باوجود مانگنے سے کتراتے ہیں۔