خانپورکے قصبے ‘ججہ عباسیاں’ کا خستہ حال ریلوے اسٹیشن چائے خانہ میں تبدیل

1908 میں تعمیر ہونے والا رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے نواحی قصبے ججہ عباسیاں کا ریلوے اسٹیشن ماضی کی دھندلی یادوں کا آئینہ دار بن چکا تھا۔ اس کی ساری روشنیاں اور رنگینیاں ماند پڑ چکی تھی۔ ججہ کے پرانے اسٹیشن کی عمارت بھینسوں کی قیام گاہ کے طور پر جانی جاتی تھی لیکن جام ایوب نے اس کی تزئین و آرائش کا بیڑہ اٹھایا اور اس کو علاقہ مکینوں کے لیے چائے خانے میں تبدیل کردیا۔

برطانوی طرز تعمیر کی حامل ججہ عباسیاں ریلوے اسٹیشن کی عمارت اب چائے کا ایک ڈھابہ ہے۔ عمارت کو سفید رنگ کا جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ مسافر خانہ، ماسٹر اسٹیشن کا دفتر اور ججہ عباسیاں 1908 جیسی تختیاں بحال کردی گئی ہیں۔ اسٹیشن کے صحن میں چارپائیاں ڈالے علاقہ مکین چائے کا مزہ لیتے ہیں اور عقب میں بچے اور نوجوان درختوں کے سائے تلے سنوکر اور کیرم بورڈ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
جام ایوب کہتے ہیں کہ’میں اس اسٹیشن سے چند قدم فاصلے پر رہائش پزیر ہوں۔ایک ماہ قبل یہاں سے گزر ہوا تو اس تاریخی ورثے کی خستہ حالی پر دلی رنج ہوا ۔ اس کی دیواروں پر بھینسوں کے گوبر کی تہہ جم چکی تھی۔ یہ بھینسوں کا تبیلہ تو تھا ہی لیکن گویا نشئیوں کا اڈہ بھی بن چکا تھا۔ اسکے بعد میں نے اس کی بحالی کے بارے میں سوچنا شروع کیا’۔

جام ایوب نے اس دن کے بعد درخواست اور چند دیگر کاغذات لیے خانپور ریلوے اسٹیشن کا رخ کیا۔ وہاں ریلوے انتظامیہ نے کرائے کے عوض یہاں چائے خانہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔ایک ماہ کی محنت کا نتیجہ تھا کہ ججہ عباسیاں ریلوے اسٹیشن کی چہک مہک لوٹ آئی ۔

جام ایوب کے مطابق انہوں نے اس اسٹیشن کے سامنے والے حصے کی تزئین و آرائش کی اور اسے اصل حالت میں بحال کیا۔مسافر خانہ، ٹکٹ گھر، ماسٹر اسٹیشن کا دفتر یہ تین مقامات اب لوگوں کی آرام گاہیں ہیں۔ مسافر خانے اور ماسٹر اسٹیشن کے دفتر کی چھت تو موجود نہیں البتہ ٹکٹ گھر کی حالت قدرے بہتر ہے۔

تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے وہ بولے کہ ‘یہاں چائے سمیت سموسے، پکوڑے،اور فنگر چپس بھی بنائے جاتے ہیں۔ اسٹیشن کے احاطے میں چارپائیاں بچھائی گئی ہیں۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل میڈیا سے دور رکھنے کے لیے سنوکر اور کیرم بورڈ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے’۔
ججہ عباسیاں اپنی منفرد تاریخ کے لحاظ سے ماضی کی ریاست بہاولپور کا ایک اہم مقام ہوا کرتا تھا۔خانپور سے تعلق رکھنے والے مصنفین اور محققین عرصہ دراز سے خانپور ریلوے جنکشن کی بربادی کے قصے سنا رہے ہیں لیکن شنوائی کبھی نہیں ہوئی۔ججہ عباسیاں کا شمار ان چار قصبوں میں ہوتا تھا جہاں سے خانپور تا چاچڑاں ریلوے ٹریک گزرا کرتا تھا۔

خانپور سے تعلق رکھنے والے سیاح اور محقق ڈاکٹر عظیم شاہ کہتے ہیں کہ ‘خان پور ریلوے جنکشن کسی زمانے میں اپنی مثال آپ تھا۔ یہ اپنی رونق، سہولیات اور مسافروں سے لدے ریلوں کے حوالے سے پوری ریاست بہاولپور کا سب سے بڑا جنکشن ہوا کرتا تھا’۔

انہوں نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘خانپور سے شروع ہو کر چاچڑاں شریف تک اس ریلوے ٹریک کی لمبائی 33 کلومیٹر تھی، جسے 1911 میں کھولا گیا تھا جبکہ بنیادی طور پر اس ٹریک پر کام 1908 میں شروع ہوا’۔
‘سابق ریاست بہاولپور اور برطانوی حکومت نے گوادر کو ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور کوٹ مٹھن سے ملانے کے لیے چاچڑاں شریف کے راستے ابتدائی طور پر خانپور تا چاچڑاں یہ ریلوے لائن بچھائی۔ 1998 تک اس ٹریک پر مسافر ٹرین بھی چلتی رہی، جسے بعد میں بند کردیا گیا’۔

اس ٹریک پر تیسرا اسٹیشن خان پور سے 17 کلومیٹر دور ججہ عباسیاں کا یہی ریلوے اسٹیشن تھا جو1908 میں تعمیر کیا گیا اور اب چائے خانے کے طور پر جانا جائے گا۔

ججہ عباسیاں کی وجہ شہرت بتاتے ہوئے ڈاکٹر عظیم شاہ نے کہا کہ ‘ججہ اپنے کھجوروں کے باغات کی وجہ سے مشہور ہے۔ ان باغات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم کے لشکر نے یہاں کھجور کی گھٹلیاں پھینکی تھی اور اس سے یہ باغات وجود میں آئے’۔
‘سندھ سے ملتان کی طرف پیش قدمی کرتے محمد بن قاسم کے لشکر نے اس جگہ قیام کیا تھا تو یہ بات درست خیال کی جا سکتی ہے۔یہ علاقہ نواب آف بہاولپور کے محل کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ نواب یہاں واقع ایک جھیل پر شکار کرنے آتے تھے’۔

اس جنکشن سے وابستہ اپنی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عظم شاہ نے کہا کہ ‘اسی اور نوے کی دہائی میں یہاں کا ریلوے کلب بہت فعال تھا۔ والی بال سمیت ہاکی، ٹینس اور کرکٹ کے میچ باقاعدہ ہوا کرتے تھے۔ کیفے اور اکھاڑے کی سہولت بھی تھی۔ نامی گرامی ہستیاں یہاں کی ممبر تھیں۔ یہاں پہلوانوں کی کشتی دیکھنے دور دور سے لوگ آتے تھے۔ لیکن افسوس، اب ماضی کی صرف یادیں ہی باقی ہیں’۔

انہوں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ‘علاقے میں سماجی رابطوں اور قدیم عمارتوں کی حفاظت کا شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے یہ نہایت بہترین اقدام ہے جس پر جام ایوب صاحب کے علاوہ پاکستان ریلوے کا شکریہ بھی بنتا ہے۔ ریلوے کو چاہیے کہ وہ دیگر متروک شدہ اسٹیشن بھی پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کسی بہتر استعمال میں لائے ‘۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں