ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ مصنوعی ذہانت خلائی موسم کے حوالے سے پیشگوئی روایتی طریقوں سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں کرسکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنیوا کی ایک یونیورسٹی نے حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو بہتر انداز میں خلائی موسم کی پیشگوئی کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رئیل ٹائم سینسر کی معلومات کے ساتھ تاریخی ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئےمصنوعی ذہانت جغرافیائی طوفانوں کی بروقت پیشگوئی میں مدد کر سکتا ہے جو زمین کے سیٹلائٹ سسٹم اور پاور گرڈ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مئی 2024 کے تازہ ترینphenomenonسے ڈیٹا لیا اورمصنوعی ذہانت ماڈل نے کامیابی سے شمسی شعلوں اور کورونل ماس ایجیکشن کی بالکل درست پیشگوئی کی ہے ۔
تحقیق کے مطابق اے آئی سسٹم نے شمسی سرگرمیوں میں ایسے نمونوں کی نشاندہی کی جو روایتی آلات سے معلوم کرنے میں مشکل پیش آتی ہے ۔