یہ تازہ ترین پیشرفت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کا ایک اور مرحلہ ہے، جو خطے میں جاری تنازع کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
حماس نے غزہ میں قید مزید 3 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا، جب کہ اسرائیل نے جواب میں 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، ہفتے کی صبح یہ اسرائیلی قیدی ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے حوالے کیے گئے۔ یہ پانچواں قیدیوں کا تبادلہ تھا، تاہم امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی تجویز کے بعد اس معاہدے کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
رہائی پانے والے افراد میں 52 سالہ ایلی شاربی، 34 سالہ یا لیوی اور 56 سالہ احد بن امی شامل تھے۔ ان میں سے شاربی اور احد بن امی کو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران اسرائیل کے جنوبی علاقے کبوتز بیری سے اغوا کیا گیا تھا، جب کہ لیوی کو نووا میوزک فیسٹیول سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان واقعات میں تقریبا1200 اسرائیلی ہلاک اور 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
رہائی کی تقریب وسطی غزہ میں دیر البلح میں ہوئی، جہاں قسام بریگیڈ کے جنگجوؤں نے قیدیوں کو اسٹیج پر لایا، ان کے ہاتھوں میں رہائی کا سرٹیفکیٹ تھا، اور اسٹیج پر بینرز پر لکھا تھا، ‘ہم سیلاب ہیں، ہم جنگ کا اگلا دن ہیں’۔ رہائی کے موقع پر فلسطینی عوام نے حماس کے عسکری ونگ قسام بریگیڈ کے حق میں نعرے لگائے۔
رہائی پانے والے قیدی کمزور نظر آئے، اور ان کے اہل خانہ نے فوری طور پر باقی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہل خانہ اور حامیوں نے نیتن یاہو حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاج جاری رکھا ہے، تاکہ وہ معاہدے کے اگلے مراحل پر عمل کرے اور تمام یرغمالیوں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔