بھارت کے معروف صنعتکار اور اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے 10 ہزار کروڑ بھارتی روپے فلاحی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، گوتم اڈانی کے بیٹے جیت اڈانی کی شادی ہیرے کے کاروبار سے وابستہ تاجر کی بیٹی دیوا سے انجام پائی۔ یہ تقریب سادگی، مذہبی عقائد اور گجراتی روایات کے مطابق منعقد کی گئی، جس میں صرف قریبی عزیز و اقارب اور خاندان کے افراد شریک ہوئے۔
یہ شادی نہ صرف خبروں میں نمایاں رہی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی توجہ کا مرکز بنی۔ اس کی بنیادی وجہ کسی امیر صنعتکار کے بیٹے کی شادی کا پرُوقار اور سادہ انداز میں ہونا اور ساتھ ہی خطیر رقم کا فلاحی کاموں میں عطیہ کرنا ہے، جو کہ ایک مثال بن چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، عطیہ کردہ 10 ہزار کروڑ روپے کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے خرچ کیا جائے گا۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ صحت عامہ، معیاری تعلیمی اداروں کے قیام اور بنیادی انفراسٹرکچر کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا تاکہ کمزور طبقے کو فائدہ پہنچ سکے۔
گوتم اڈانی اس سے قبل بھی فلاحی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے ہیں، لیکن اس بار انہوں نے اپنی خاندانی تقریب کو ایک عظیم سماجی خدمت کا ذریعہ بنا کر نئی مثال قائم کی ہے۔ ان کے اس اقدام کو عوام اور کاروباری حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔
بھارت میں بڑی صنعتکار شخصیات اکثر مہنگی اور شاندار شادیوں کے لیے جانی جاتی ہیں، لیکن اڈانی خاندان کی سادگی اور سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ ایک مثبت پیغام دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم دیگر کاروباری شخصیات کے لیے بھی ایک متاثرکن مثال ثابت ہوسکتا ہے، جس سے سماجی ترقی کے مزید دروازے کھلیں گے۔
گوتم اڈانی کا یہ اقدام نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں فلاحی خدمات کے میدان میں ایک یادگار فیصلہ سمجھا جا رہا ہے، جو یقینی طور پر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔