جنید اکبر تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے پرانے نظریاتی ساتھی ہیں، وہ تین بار پارٹی کے پلیٹ فارم سے رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں، حال ہی میں عمران خان نے انہیں علی امین گنڈاپور کی جگہ پرپختونخواہ کا صوبائی صدر بنایا ہے۔ جنید اکبر کے بارے میں یہ عمومی تاثر ہے کہ وہ علی امین گنڈاپور کے مخالف ہیں اور ان کا تعلق اس نظریاتی گروپ سے ہے جس کا عاطف خان ، شکیل خان وغیرہ بھی حصہ ہیں۔
اب ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے پختونخواہ کی سیاست اور تحریک انصاف کے دھڑے بازی کے حوالے سے کئی دلچسپ انکشافات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات میں یہ کہا گیا کہ ٹکٹوں کے فیصلے عمران خان نے کئے ہیں، حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں تھا کیونکہ کئی سو لوگوں کے ناموں کی لسٹ تھی جو عمران خان کے لئے جیل میں دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ آٹھ فروری کے انتخابات میں پارٹی کے کئی اہم رہنمائوں جیسے عاطف خان، شہرام تراکئی وغیرہ کو قومی اسمبلی کے ٹکٹ دئیے گئے اور صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔ جنید اکبر کے بقول عمران خان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے میں نے نہیں کئے، میرے پاس ایسی کوئی لسٹ نہیں لائی گئی ۔
جنید اکبر کے مطابق عمران خان نے میرے، عمر ایوب اور حامد رضا کی موجودگی میں یہ کہا کہ وہ لسٹ میرے پاس لائی جائے تاکہ مجھے پتہ چل سکے کہ کس کی سفارش پر کسے ٹکٹ ملی ہے۔ جنید اکبر کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں پتہ کہ ٹکٹوں کے یہ فیصلے کس نے کئے تھے۔
تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کا کہنا ہے کہ ان کی علی امین گنڈا پور سے زندگی میں صرف ایک ہی ملاقات ہوئی ۔ تاہم علی امین گنڈاپور کی پارٹی کے لئے خدمات ہین اور وہ عمران خان کے بھی قریب ہیں، میں نے صرف ایک بار ان کے خلاف ٹوئٹ کی تھی پھر دوبارہ کبھی ہم دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بات نہیں کی تاہم ہمارا آپس میں رابطہ بھی نہیں رہا۔
جنید اکبر کے مطابق ان کی بشریٰ بی بی سے آخری ملاقات پچیس نومبر کو ہوئی تھی۔ انہیں بشریٰ بی بی اور گنڈا پور کے درمیان ناراضی ختم ہونے کی بھی کوئی اطلاع نہیں۔ جنید اکبر کے مطابق ماضی کے ان چند ماہ میں وہ کور کمیٹی سے الگ ہو گئے تھے تاہم انہیں جوذمہ داری دی جاتی، وہ اسے پورا کرتے تھے۔
جنید اکبر نے ایک دلچسپ انکشاف کیا کہ بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈا پور کے آپس میں رابطے تھے۔ بیرسٹر گوہر کسی کا پیغام لے کر عمران خان کے پاس جاتے تھے، یہ بات ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ مگر پارٹی کی پالیسی تھی ، بیرسٹر گوہر کی پالیسی نہیں تھی۔