فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے: ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ، شفقت علی خان نے کہا ہے کہ، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بےدخل کرنے کی کسی بھی تجویز کو پاکستان ناانصافی سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ، پاکستان فلسطین کے مسئلے پر ہمیشہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ، صدر آصف علی زرداری اس وقت چین کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے چینی صدر ،شی جن پنگ اور وزیر اعظم ،لی کیانگ سے ملاقات کی۔ اس دوران پاکستان نے ایک بار پھر ‘ون چائنہ’ پالیسی کی حمایت کا اعادہ کیا اور ہانگ کانگ، بحیرہ جنوبی چین اور سنکیانگ سے متعلق چین کی پالیسیوں کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ،پاکستان اور چین کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کو مشترکہ مفاد قرار دیتے ہوئے افغانستان کے حوالے سے قریبی روابط برقرار رکھنے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ،  پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور ان کے حقوق کی حمایت جاری رکھے گا۔  فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بےدخل کرنے کی کوئی بھی تجویز انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور پاکستان اس کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

ترجمان نے اسرائیل کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، امدادی سرگرمیوں کو روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ، وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف اپنی خاموشی توڑے اور سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

 ترجمان نے وضاحت کی کہ ،سابق وزیر خارجہ، بلاول بھٹو زرداری کا دورہ امریکا دفتر خارجہ کے ذریعے طے نہیں ہوا، لہٰذا اس حوالے سے ان کے پارٹی ترجمان ہی بہتر وضاحت کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ،  پاکستان کے امریکا اور چین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ، غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کوئی غیر قانونی اقدام نہیں، بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے۔  پاکستان افغان شہریوں کی تیسرے ممالک منتقلی کے لیے متعلقہ ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے۔ امریکا کی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کی حالیہ رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتی ہے کہ ،افغان حکومت کو اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ، جرمنی میں پاکستانی سفارت خانے پر حملہ اور قومی پرچم کی بےحرمتی ایک حساس معاملہ ہے، جس سے پاکستانی عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔  پاکستان نے جرمن حکومت سے اس واقعے پر باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے اور سفارت خانے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک صدر، طیب ایردوان کے پاکستان دورے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ، ترک صدر سے   ممکنہ دورہ پاکستان کے حوالے سے ابتدائی بات چیت جاری ہے، اور جلد ہی اس سلسلے میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، پاکستان ایک معتدل اور پرامن شام کی حمایت کرتا ہے اور وہاں جاری عدم استحکام کے خاتمے کا خواہاں ہے۔

کشمیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شفقت علی خان نے کہا کہ، پاکستان کا موقف ہمیشہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق رہا ہے اور یہی موقف برقرار رہے گا۔ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ ہماری پالیسی کا اہم جزو ہے۔

ان کا  مزید کہنا تھا کہ،  ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جانب سے سابق امریکی صدر، جو بائیڈن کو دی گئی رحم کی اپیل مسترد کر دی گئی ہے، جس کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے ان کے کیس کو بند کر دیا ہے۔ تاہم، ان کے وکلاء مستقبل میں دوبارہ رحم کی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں