دنیا میں اس وقت ٹرمپ کے آنے کے بعد ایک نئی تجارتی جنگ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی نئی انتظامیہ نے سنیچر کے روز کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیکس کا ایک اعلان کردیا ہے جبکہ چین پر 10 فیصد اضافی ٹیکس کے اطلاق کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جمعہ کو جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا، میکسیکو اور چین پر نئے محصولات عائد کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق نئے اقدامات میں میکسیکو اور کینیڈا سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف اور چینی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف شامل ہے جو اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ وہ ممالک منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ “مکمل تعاون” نہیں کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکیوں کو افیون سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ کن اقدام کر رہے ہیں۔ افیون کا استعمال 18 سے 45 سال کی عمر کے امریکیوں کی موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
امریکی حکومت نے میکسیکن صنعت کاروں پر امریکہ میں افیون اسمگل ہونے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ کینیڈا پر الزام ہے کہ وہ منشیات کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور غیر قانونی بارڈر کراسنگ کے خلاف موثر اقدامات لینے سے گریزاں ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق گزشتہ مالی سال میں 9.8 ملین امریکیوں کو ہلاک کرنے کے لیے شمالی سرحد پر کافی افیون کی اسمگلنگ روکی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی پابندیوں تب تک جاری رہے گی جب تک یہ ممالک افیون کے خلاف اقدامات کے لیے امریکہ کا ساتھ نہ دیں۔
تاہم، کینیڈا اور میکسیکو نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے ٹیرف کے جواب میں امریکی اشیا پر جوابی محصولات کا حکم دے دیا ہے۔ کینیڈا نے ابتدائی طور پر امریکی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا حکم دیا۔