ناروے نے افغان سفارت خانہ موجودہ حکومت کے حوالے کردیا

ناروے میں افغانستان کے سفارت خانے کی بندش کے بعدمیزبان ملک نے سفارت خانے کی عمارت کی دیکھ بھال موجودہ افغان حکومت کی منظور کردہ شخصیت کے حوالے کر دی ہے۔

ناروے نے گزشتہ سال ستمبر میں طالبان کی درخواست پر افغانستان کا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔ گزشتہ تین سال سے سفارت خانہ سابق افغان حکومت کے وفادار سفارت کار چلا رہے تھے۔

اوسلو میں افغانستان کے سابق سفیر یوسف غفورزی نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ ناروے میں ساڑھے چار سال خدمات انجام دینے کے بعد ان کا مشن ختم ہو گیا ہے۔

تاہم، سفارت خانے کی عمارت کو طالبان کی منظور کردہ شخصیت کے حوالے کرنے کا مطلب سفارت خانے کا دوبارہ کھلنا نہیں ہے۔ سفارت خانے کو باضابطہ طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے میزبان ملک کی جانب سے قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے سفارت خانے کی عمارت کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کردہ شخص فی الحال اوسلو میں مقیم ہے۔اوسلو میں افغانستان کے سفارت خانے نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ نارویجن حکومت کی درخواست پر سفارت خانہ 12 ستمبر 2024 تک بند رہے گا۔ اس دوران، تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے، بشمول سفارت خانے کی عمارت، ناروے کی وزارت خارجہ کے پاس بطور امانت رہیں گے جب تک کہ افغانستان میں عوام کی مرضی سے ایک جائز حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں