پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے ہر ضروری مدد فراہم کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اتوار کو نشر ہونے والے انڈیپنڈنٹ عربیہ کے انٹرویو میں یمن کے حو-ثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں اور پاکستان کی ممکنہ فوجی معاونت سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کی جانب سے ضروری تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، تاہم دفاعی اتحادوں میں فوجی معاونت کی نوعیت اور تفصیلات عام طور پر عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے یا ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش پر پاکستان کے عوام سے لے کر سیاسی اور عسکری قیادت تک شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی شرط یا گنجائش نہیں رکھی جا سکتی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی تعاون سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے واضح کیا کہ تینوں ممالک کے درمیان قائم اتحاد کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ مشترکہ دفاع ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ جنگ چھیڑی جاتی ہے تو اس کا اجتماعی جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق، اگر مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کسی خطرے کو روکنے میں ناکام رہی تو دستیاب وسائل کے ذریعے دفاعی صلاحیت کو مؤثر بنایا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان تہران سمیت تنازعے میں شامل تمام فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد کشیدگی کم کرنا، فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کرنا اور معاملات کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دفاعی اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز میں سمندری تجارت کو لاحق خطرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے سمندری دفاع کے لیے ایک کثیرالقومی اتحاد قائم کیا ہے، جس میں پاکستان بحریہ کا ایک افسر نائب کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تنازعات اور فوجی کشیدگی بڑھانے کے بجائے اتحاد اور مذاکرات کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر حملوں سے کسی ملک کو فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ خطے میں عدم استحکام بڑھے گا۔ ان کے مطابق، پاکستان ایران کے خلاف امریکی جنگ کے آغاز سے ہی تمام متعلقہ فریقوں کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ تنازعات کا حل جنگ میں توسیع نہیں بلکہ کشیدگی میں کمی اور پُرامن بات چیت ہے۔