نئے صوبے: ضرورت یا نئی جغرافیائی سیاست؟

پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث ایک بار پھر سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہے۔ یہ کوئی نیا سوال نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری ایسا معاملہ ہے جس میں انتظامی ضرورت، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی، علاقائی شناخت اور وفاقی ڈھانچے کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ کے مطالبات اپنی اپنی تاریخ رکھتے ہیں، جبکہ کراچی، پوٹھوہار اور اسلام آباد کو الگ انتظامی حیثیت دینے کی بحث بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہے۔ آج سوال صرف یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی آبادی، وسیع جغرافیے اور بدلتی ضروریات کے مطابق عوام کو بہتر حکمرانی دے بھی رہا ہے یا نہیں۔

اس بحث کی جڑیں پاکستان کی ابتدائی تاریخ تک جاتی ہیں۔ 1955 میں ون یونٹ کے قیام سے مغربی پاکستان کے مختلف صوبوں اور ریاستوں کو ایک انتظامی اکائی میں ضم کیا گیا اور بہاولپور بھی اپنی سابق حیثیت سے محروم ہوگیا۔ 1970 میں ون یونٹ ختم ہوا لیکن بہاولپور کو الگ صوبے کی حیثیت واپس نہ مل سکی اور اسے پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ اسی پس منظر میں بہاولپور صوبہ بحالی تحریک اور جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبے کا مطالبہ آگے بڑھا۔ وقت کے ساتھ یہ مطالبات صرف زبان یا شناخت تک محدود نہ رہے بلکہ ترقی، وسائل، روزگار، صحت، تعلیم اور سیاسی نمائندگی کے سوال سے بھی جڑ گئے۔

جنوبی پنجاب کا معاملہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مستقل آزمائش رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں یوسف رضا گیلانی نے سرائیکی صوبے کے مطالبے کو قومی سطح پر نمایاں کیا اور 2012 میں پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب کے حق میں قراردادیں منظور ہوئیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ کیا، اقتدار میں آنے کے بعد پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش ہوئی اور 2022 میں شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش کیا، مگر مطلوبہ آئینی مراحل مکمل نہ ہو سکے۔ مسلم لیگ ن بھی مختلف ادوار میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے الگ صوبوں کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم اس کی موجودہ پالیسی ابھی پوری طرح واضح نہیں۔

موجودہ بحث میں ایک نیا موڑ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات سے آیا۔ اگست میں انہوں نے موجودہ نظامِ حکمرانی کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے اور نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ 5 ستمبر کو لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنا مؤقف مزید واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی آبادی اور بدلتی ضروریات کو موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ذریعے مؤثر طور پر سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’’ری سیٹ‘‘ سے مراد نظام توڑنا نہیں بلکہ اس میں موجود خرابیوں کو دور کرنا ہے اور نئے یونٹس کا فیصلہ کسی ایک شخص یا جماعت کے بجائے عوام کی رائے، سیاسی اتفاق رائے اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے۔

محسن نقوی کی لاہور میں ہونے والی یہ گفتگو اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں نئے صوبوں کا معاملہ محض سیاسی جلسوں سے نکل کر پالیسی اور علمی حلقوں کے مباحثے میں آیا۔ نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں سیاست دانوں، ماہرین، صحافیوں، کاروباری شخصیات اور تعلیمی حلقوں نے مختلف زاویوں سے انتظامی اصلاحات پر بات کی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے چھوٹے انتظامی یونٹس کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے توجہ اس طرف دلائی کہ صوبے بنانے سے پہلے ملک میں آئین کی بالادستی اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر بھی ضروری ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان سمیت دیگر شخصیات کی شرکت نے اس بحث کو مزید وسیع کیا۔

لاہور کے نجی تعلیمی اداروں میں یہ بحث اس سے پہلے بھی ہو چکی ہے۔ پنجاب گروپ کے چیئرمین اور سابق میئر لاہور میاں عامر محمود نے 2025 میں ایک آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نئے صوبوں کو انتظامی ضرورت قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان میں اختیارات اور سہولیات چند بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، ترقی کا عمل مؤثر نہیں ہو سکتا۔ ان کا استدلال تھا کہ چھوٹے صوبوں سے سیاسی احتساب، انصاف اور بنیادی سہولیات تک عوام کی رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

تاہم لاہور کے حالیہ مباحثے میں یہ بھی واضح ہوا کہ ہر اسٹیک ہولڈر نئے صوبوں کو مسائل کا حتمی حل نہیں سمجھتا۔ سینئر صحافی حامد میر نے اسی پالیسی مکالمے میں یہ نکتہ اٹھایا کہ بیڈ گورننس کی بنیادی وجہ صرف صوبوں کا بڑا ہونا نہیں بلکہ حکمرانی کا انداز، اداروں کی کمزوری اور قانون کی حکمرانی کے مسائل بھی ہیں۔ اس مؤقف میں وزن اس لیے ہے کہ اگر موجودہ صوبوں کو تقسیم کر کے نئے صوبے بنا دیے جائیں لیکن وہی بیوروکریسی، سیاسی مداخلت، کمزور بلدیاتی نظام اور ناقص احتساب برقرار رہے تو عام شہری کی زندگی میں بڑی تبدیلی شاید نہ آئے۔

دوسری طرف نئے صوبوں کے حامیوں کے پاس بھی مضبوط دلائل ہیں۔ جنوبی پنجاب کے شہریوں کے لیے لاہور سے انتظامی فاصلہ ایک حقیقت ہے، جبکہ ہزارہ کے عوام طویل عرصے سے پشاور سے انتظامی دوری اور علاقائی شناخت کی بنیاد پر الگ صوبے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں بھی جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے مطالبات پر بحث ہو چکی ہے۔ نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ حکومت جتنی عوام کے قریب ہوگی، اتنی ہی مؤثر طریقے سے تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔

سندھ میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے مگر سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے معاملے پر اس کا مؤقف سخت ہے۔ سندھ اسمبلی کراچی کو سندھ کا ناقابل تقسیم حصہ قرار دے چکی ہے، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان ملک بھر میں نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کی حمایت کر رہی ہے۔ یہی تضاد اس بحث کا سب سے اہم سیاسی پہلو ہے: ایک جماعت پنجاب میں انتظامی تقسیم کی حامی ہوسکتی ہے مگر سندھ میں اسی اصول کی مخالف۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی مفاد سے نکال کر ایک قومی پالیسی کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کون سے علاقوں کے عوام نئے صوبے چاہتے ہیں؟ جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ میں اس حوالے سے طویل سیاسی و سماجی تحریکیں موجود ہیں، لیکن کسی پورے صوبے کی اکثریتی آبادی کی رائے کے بارے میں حالیہ قابل اعتماد ریفرنڈم موجود نہیں۔ اس لیے سیاسی جلسوں یا رہنماؤں کے بیانات کو عوامی اکثریت کا حتمی فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اگر واقعی عوام کو فیصلہ کن اسٹیک ہولڈر مانا جا رہا ہے تو شفاف عوامی مشاورت، نمائندہ رائے شماری یا کسی آئینی طریقہ کار کے ذریعے ان کی رائے معلوم کرنا ہوگی۔

سب سے بڑی رکاوٹ آئینی اور سیاسی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے، جبکہ اس کے بعد پارلیمنٹ میں بھی آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یعنی جنوبی پنجاب صرف قومی اسمبلی کی قرارداد سے نہیں بن سکتا؛ پنجاب اسمبلی کی دو تہائی اکثریت بنیادی شرط ہے۔ اس کے ساتھ نشستوں کی نئی تقسیم، این ایف سی، سینیٹ کی نمائندگی، اثاثوں اور ملازمین کی تقسیم اور نئے صوبوں کی مالی خودکفالت جیسے سوالات بھی حل کرنا ہوں گے۔

لہٰذا نئے صوبوں کی سب سے بڑی رکاوٹ کسی ایک شخصیت یا جماعت کو قرار دینا درست نہیں۔ اصل رکاوٹ سیاسی اتفاق رائے اور موجودہ سیاسی مفادات ہیں۔ پنجاب کی تقسیم سے قومی سیاسی طاقت کا توازن بدلے گا، سندھ میں نئے یونٹس کی بات شہری اور دیہی سیاست کو متاثر کرے گی اور خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کا قیام صوبائی سیاست کی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔ اسی لیے ہر جماعت اصول کی بجائے اپنے سیاسی مفاد کے مطابق مؤقف اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کو اب ’’کتنے صوبے؟‘‘ کے بجائے ’’کیسے اور کیوں صوبے؟‘‘ کا سوال طے کرنا ہوگا۔ اگر مقصد صرف نقشہ بدلنا ہے تو نئے صوبے ایک نیا مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اگر مقصد اختیارات کو عوام کے قریب لانا، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر سروس ڈلیوری، مضبوط بلدیاتی نظام اور سیاسی احتساب ہے تو چھوٹے انتظامی یونٹس ایک قابلِ غور اصلاح ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کو آبادی، رقبے، مالی استعداد، انتظامی فاصلے، وسائل اور عوامی رائے کی بنیاد پر ایک واضح قومی معیار بنانا چاہیے۔

آخرکار نئے صوبوں کا فیصلہ نہ محض محسن نقوی کے بیان سے ہوگا، نہ کسی ایک جماعت کے اعلان سے اور نہ کسی صوبائی حکومت کی مخالفت سے۔ یہ پاکستان کے وفاقی مستقبل کا فیصلہ ہے۔ لاہور کے تعلیمی و پالیسی مباحثوں نے کم از کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ سوال اب صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں رہا؛ وکلا، صحافی، ماہرین تعلیم، کاروباری طبقہ، نوجوان، علاقائی نمائندے اور عام شہری سب اس بحث کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ بحث ’’صوبہ بناؤ یا نہ بناؤ‘‘ کے جذباتی نعرے سے آگے بڑھ کر اس سوال کا جواب دے کہ پاکستان کے ہر شہری تک ریاست، وسائل اور انصاف کتنا جلد اور مؤثر طریقے سے پہنچ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں