جماعت کی غلطیوں پر اگر تنقید پوری شدت سے ہو سکتی ہے تو ان کی خوبیوں کے تذکرے میں کوئی گونگا شیطان کیوں بن جائے؟
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے ، اس ملک میں جب بھی افتاد آن پڑی ، وہ زلزلہ ہو ، سیلاب ہو ، کرونا وائرس کی وبا ہو ، مہنگی بجلی کا عذاب ہو ، پٹرول کی بڑھتی قیمتیں ہوں ، سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی کے سواکبھی کسی اور نے آپ نے مدد کی، کبھی آواز اٹھائی ؟
اس نعرے سے تو اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ حل اب صرف جماعت اسلامی لیکن اس سے اختلاف ممکن ہی نہیں کہ جب بھی افتاد پڑتی ہے، مددگار صرف جماعت اسلامی ہی ہوتی ہے۔’’حل‘‘ نہ سہی ’’معاون اور مددگار‘‘ ہی سہی لیکن ہے صرف جماعت اسلامی ۔
بیس دن سے اوپر ہو گئے ہیں ، جماعت اسلامی دھرنا دیے بیٹھی ہے۔ کس لیے؟ بجلی اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ۔ عام آدمی کے لیے ۔ اس عام آدمی کے لیے جس نے جماعت اسلامی کو کبھی ووٹ نہیں دیا۔
ابھی کل کی بات لگتی ہے ، کرونا وائرس کا بحران تھا ۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ حکومت سے بھی پہلے جماعت اسلامی بروئے کار آئی تھی ۔ جس وقت حکومت وقت کو سمجھ نہیں آ رہی کرنا کیا ہے اس وقت جماعت اسلامی تھر پارکر سمیت کئی مقامات پر آئسولیشن وارڈ قائم کر چکی تھی ۔
تب کے وزیر اعظم ذاتی نگرانی فرما رہے ہیں لیکن جس وقت ان کے اپنے حلقہ انتخاب اور ملک کے دارالحکومت میں ماسک نہیں مل رہے تھے تب جماعت اسلامی کے لوگ یہ ماسک مفت تقسیم کر ہے تھے ۔
ابھی حکومتیں حساب کتاب کے گوشوارے کھولے بیٹھی تھیں جب جماعت نے وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر پیش کش کی کہ جماعت اسلامی اور الخدمت کے تمام رضاکار وں کی خدمات حکومت سندھ کو پیش کرتے ہیں، یہی نہیں جماعت اسلامی کے الخدمت ہسپتالوں کی تمام لیبارٹریاں سندھ حکومت کو مفت استعمال کرنے کی پیش کش بھی کی ۔
حکمران اپنے کروںا ٹائیگروں کی فورس کے قصیدے پڑتے رہے لیکن میداان میں صرف جماعت اسلامی تھی ۔ میدان میں او ر کوئی سیاسی جماعت نہ تھی ۔
دیگر جماعتوں کا بھی یہی دعوی ہے کہ ان کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ عوام کی فلاح ہے تو پھر سوال تو پیدا ہو گا کہ جب عوام کو کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے یہ ساری جماعتیں کہاں چلی جاتی ہیں ۔ میدان عمل میں صرف جماعت اسلامی کیوں رہ جاتی ہے۔
جماعت اسلامی ملک بھر میں الخدمت ہسپتال چلا رہی ہے جہاں سیاسی وابستگی سے بالاتر سب کا علاج ہوتا ہے اور عزت نفس پامال کیے بغیر ہوتا ہے۔ جماعت کا غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ بھی ایک غیر معمولی اور شاندار پراجیکٹ ہے ۔ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کی تحسین نہ کرنے کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ اول : آدمی اس سے لاعلم ہو۔ دوم : وہ متعصب اور بد دیانت ہو ۔
جماعت اسلامی کے الیکشن جیتنے کا کوئی امکان نہیں ۔ دور دور بلکہ بہت دور تک ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ لیکن اس کے باوجود ملک کے جس حصے میں کوئی افتاد آن پڑتی ہے جماعت اسلامی پہلی ، واحد اور آخری سیاسی جماعت ہوتی ہے جو سیاسی تعصبات سے بے نیاز ہو کر لوگوں کی مدد کرتی ہے ۔ اس ملک میں فلاحی ریاست کا کوئی سیاسی عنوان ہو سکتا ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی ہے۔ اس کی انتخابی سیاست غلطی ہائے مضامین کا مجموعہ اور ناکامیوں کا دیوان سہی ، اس کا فلاحی کام اس قابل ہے کہ اس کی تحسین ہی نہ کی جائے اس پر رشک بھی کیا جائے۔
اس کی افرادی قوت ہے ہی کتنی؟ لاہور میں انتخابی معرکہ ہوتا ہے تو شہر بھر میں قائم جامع مسجدوں سے بھی کم اس کے ووٹ ہوتے ہیں ۔ دولت مند لوگ بھی اس قافلے میں آخر کتنے ہوں گے؟ شاید انگلیوں پر ایک سانس میں گن لیے جائیں ۔ کیا آپ کو حیرت نہیں ہوتی کہ یہ گروہ فلاحی ، خیراتی اور غریب پروری کا ایسا غیر معمولی نیٹ ورک چلا رہا ہے دو تہائی اکثریت اور مقبول ترین رہنما ہونے کے زعم میں مبتلا سیاسی رہنما جس کا تصور نہیں کر سکتے۔
خلق خدا مہنگائی کے ہاتھوں سسک رہی ہےا ور سیاسی جماعتیں مستقبل کے دستر خوان پر اپنے امکانات کے اندیشوں کے حساب میں مصروف ہیں ۔ ایک واحد جماعت اسلامی ہے جو اس وقت عام آدمی کے مالی مسائل کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔
وہ کامیاب ہوتی ہے یا ناکام ، یہ ثانوی بات ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ عوام کا مقدمہ صرف جماعت اسلامی لڑ رہی ہے۔