وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، اہم شمولیت اور کارکردگی کا نیا نظام متعارف

وفاقی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے تمام ضروری مشاورت مکمل کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف سمیت حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادت سے بھی مشورے کیے ہیں۔ توقع ہے کہ کابینہ میں تبدیلی اور توسیع کے فیصلے آئندہ ماہ نافذ ہوں گے۔

اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو ڈاکٹر سید توقیر شاہ کی کابینہ میں شمولیت ہوگی، جو اس وقت عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کی دعوت قبول کرلی ہے اور انہیں وفاقی وزیر کا درجہ دے کر معاون خصوصی مقرر کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق کابینہ میں چار سے پانچ نئے وزرائے مملکت شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ متوقع ناموں میں بیرسٹر عقیل ملک، سینیٹر طلال بدر چوہدری، خلیل طاہر سندھو، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، اور حنیف عباسی شامل ہیں۔ یہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کابینہ کی پہلی بڑی توسیع ہوگی۔

اس کے ساتھ ساتھ، وزیراعظم نے مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کی ہدایت پر کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سہ ماہی بنیادوں پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، اور اقتصادی امور کے وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ کو اس منصوبے کی نگرانی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جا رہا ہے۔

فی الوقت وفاقی کابینہ 18 ارکان پر مشتمل ہے جبکہ حکومت کے قلمدانوں کی مجموعی تعداد 33 ہے۔ ان میں دو وزرائے مملکت، تین خصوصی معاونین، اور ایک مشیر شامل ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد کابینہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور حکومتی اہداف کو مزید مؤثر انداز میں حاصل کرنا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں