حکومتِ پاکستان کی جانب سے مارچ 2025 تک بجلی کے ٹیرف کو 12 روپے تک کم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔اِس منصوبے میں نجی آئی پیز ، سرکاری بجلی گھروں اور شمسی و پن بجلی کے منصوبوں کےساتھ مارچ 2025 تک مذاکرات کیے جائیں گے اور بجلی سستی کرنے کی تیاری کی جائے گی۔
پاکستانی اخبار دی نیوز کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اُنہیں بتایا ہے کہ پہلے مرحلے میں حکومت نے 5 آئی پیز کے ساتھ معاہدے کو ختم کیا، جِن میں حبکو پاور، روش پاور ، اے ای ایس لال پیر پاور، صبا پاور پلانٹس اور اٹلس پاور پلانٹس شامل ہیں۔ اور اب حکومت کی جانب سے 365 میگاواٹ کے پاک جین پاور پلانٹ کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی تیاری بھی جاری ہے۔
اِس عہدیدار کے مطابق حکومت پاور ٹیرف کو 3 روپے فی یونٹ تک کم کرنے کے قابل ہو گئی ہے، اب قرض کی ری پروفائلنگ کے ذریعے ٹیرف کو مزید 4 روپے فی یونٹ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں سے ٹیکس کم کر کے، اِس کے اثر کو 5 روپے فی یونٹ تک کم کیا جائے گا، جِس سے آف پیک ٹیرف 41.68 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 29.68 روپے فی یونٹ تک رہ جائے گی اور پیک آور ٹیرف 36 روپے فی یونٹ تک کم ہو جائے گا۔