اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر 10 منٹ میں ایک خاتون اپنے شریک حیات، بوائے فرینڈ یا کسی قریبی رشتہ دار کے ہاتھوں قتل کی جاتی ہے۔
یہ رپورٹ یو این ویمن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے خواتین پر تشدد کے خلاف 25 ویں عالمی دن کے موقع پر جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق 2023 میں 85,000 خواتین قتل ہوئیں، جن میں سے 60 فیصد (51,000 سے زائد) خواتین کو ان کے شریک حیات یا رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔ ددنیا بھر میں خواتین کے قتل کی روزانہ اوسط تعداد 140 ہے، جبکہ مردوں کے قتل کا امکان خواتین کے مقابلے میں چار گنا زیادہ بتایا گیا ہے۔
متاثرہ خطے
رپورٹ کے مطابق خواتین کے قتل کے سب سے زیادہ واقعات براعظم افریقہ میں پیش آئے، جہاں 2023 میں 21,700 خواتین کو قتل کیا گیا۔
امریکہ اور اوشیانا میں قتل کے واقعات کی تعداد افریقہ کے بعد سب سے زیادہ رہی۔
خواتین کے قتل کی شرح یورپ اور ایشیا میں کم ہے، تاہم ان خطوں میں خاندان کے ہاتھوں خواتین کے قتل کے امکانات زیادہ پائے گئے ہیں۔
وجوہات اور مسائل
رپورٹ میں خواتین پر تشدد کی وجوہات کو ثقافتی، سماجی، اور اقتصادی حالات سے جوڑا گیا۔
صرف 37 ممالک کے پاس خواتین کے قتل کے درست اعداد و شمار موجود ہیں، جس سے عالمی رجحانات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کا پیغام
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس دن کے موقع پر کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد انسانیت کے لیے شرمناک ہے۔ دنیا کو انصاف اور احتساب یقینی بنا کر اس مسئلے کو ختم کرنا ہوگا۔
یو این ویمن اور یو این او ڈی سی نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط قوانین بنائے جائیں۔حکومتوں کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے جواب دہ بنایا جائے۔ خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کیا جائے۔
خواتین پر تشدد کے خلاف 16 روزہ مہم کا آغاز 25 نومبر سے ہوا، جو 10 دسمبر تک جاری رہے گی۔ اس مہم کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے مسئلے کو اجاگر کرنا اور معاشرتی سوچ کو تبدیل کرنا ہے۔
یہ رپورٹ خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سدباب کے لیے فوری اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔