ٓآبنائے ہرمز امریکہ کا نہیں بلکہ اس سے متاثر ہونے والے ممالک کا مسئلہ ہے، صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں خطاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع ضروری ہے اور امریکہ اپنے فوجی اہداف کے حصول کے قریب ہے۔

وائٹ ہاؤس سے تقریباً 19 منٹ کے خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون نظام کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے اور اس کے اسلحہ بنانے والے کارخانے اور راکٹ لانچنگ تنصیبات تباہ کی جا رہی ہیں۔

اگرچہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے فضائی حملوں میں ایران کے کئی بیلسٹک میزائل اور لانچرز کو نشانہ بنایا ہے، تاہم ایران اب بھی خطے میں میزائل داغ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس فوجی کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے اس کے خاتمے کا کوئی واضح طریقہ کار بیان نہیں کیا۔ ان کے خطاب میں ایک طرف مذاکرات کی حمایت نظر آئی تو دوسری جانب مزید سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کرنے والے ہیں۔ ہم انہیں سخت نشانہ بنائیں گے، اور آئندہ چند ہفتوں میں انہیں مکمل طور پر کمزور کر دیں گے۔ اس دوران بات چیت بھی جاری ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ایران رابطے کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے مگر فی الحال کسی رعایت کے لیے تیار نہیں۔

صدر ٹرمپ نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کو درست تناظر میں دیکھیں۔ انہوں نے ماضی کی بڑی جنگوں جیسے پہلی اور دوسری عالمی جنگ، ویتنام، کوریا اور عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تنازع ان کے مقابلے میں کہیں کم مدت کا ہے۔

تاہم انہوں نے مہنگائی اور معاشی دباؤ کے حوالے سے عوامی خدشات پر براہِ راست ہمدردی کا اظہار نہیں کیا، البتہ کہا کہ یہ جنگ مستقبل کی نسلوں کے تحفظ کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اس کے اہم مراکز اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ وہاں تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے میں مہینے لگ سکتے ہیں۔ امریکہ ان مقامات کی نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی سرگرمی کی صورت میں دوبارہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ امریکہ کا نہیں بلکہ ان ممالک کا ہے جو خلیج سے تیل درآمد کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس اہم گزرگاہ میں خلل عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات امریکی معیشت پر بھی پڑیں گے۔

خطاب کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نکولس مادورو کی گرفتاری ایک کامیاب مثال ہے، جسے وہ ایران کے لیے ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اب تک اس جنگ میں ایک طرف ایران کی حکومت بدستور قائم ہے، جبکہ دوسری جانب درجنوں امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جس سے اس تنازع کے نتائج پر سوالات بدستور موجود ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں