چین میں پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان نئی بات چیت شروع ہو گئی ہے تاکہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے دو مسلم ممالک کے درمیان جاری خونریز لڑائی کو ختم کیا جا سکے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے تنازعہ ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ یہ لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب پاکستان نے فروری کے آخر میں فضائی حملے کیے تھے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان پاکستانی علاقوں میں حملے کرنے والے شدت پسندوں کو پناہ اور مدد فراہم کر رہے ہیں، جبکہ کابل اس دعوے کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
اس بات چیت کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی چین کا دورہ کیا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے لیے چین کی حمایت حاصل کی جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کے وزرات خارجہ اور دفاع کے نمائندے شمال مغربی چینی شہر اورومچی پہنچے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ بات چیت درمیانے درجے کے حکام کے درمیان ہو رہی ہے اور اس کا مقصد ممکنہ جنگ بندی اور سرحدی راستوں کو دوبارہ کھولنا ہے تاکہ تجارت اور آمد و رفت کو ممکن بنایا جا سکے۔
افغان طالبان کے ایک رہنما نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ہماری اعلیٰ قیادت نے بات چیت میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی کی کوشش کی گئی تھی، مگر پاکستان نے افغان جانب سے حملے کے جواب میں اسے ختم کر دیا تھا۔
افغانستان نے بھی گزشتہ ماہ کابل میں ایک ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن سینٹر پر پاکستانی فضائی حملے میں چار سو سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی تھی۔ پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں صرف عسکری مقامات اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
چین کی ثالثی کی کوششیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب قطر، سعودی عرب اور ترکیہ، جو پچھلے سال اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر چکے ہیں، امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ میں جنگ بندی میں مصروف ہیں۔