فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر یقینی خارجہ پالیسی اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پر مسلسل تنقید کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی تعلقات میں دراڑیں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں جس سے اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کے سرکاری دفاتر میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکہ جیسے دیرینہ اتحادی پر اب پہلے جیسا بھروسہ نہیں رہا۔ خاص طور پر گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی بیانات، یورپی سیاست میں مداخلت کی خواہش اور ایران کے خلاف جنگ میں برطانیہ کی عدم شمولیت پر امریکی ردعمل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے برطانوی مسلح افواج کے کردار کو کم تر دکھانے اور وزیر اعظم اسٹارمر کو ‘چرچل نہیں’ قرار دینے جیسے بیانات نے تعلقات کو مزید متاثر کیا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ کے ایک ذریعے نے آئی پیپر کو بتایا ہےکہ ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے مفادات کو نظرانداز کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حساس معاملات پر ہونے والے اجلاسوں میں تعینات امریکی حکام کو اب بعض اوقات شامل نہیں کیا جاتا، جسے برطانوی حکام نے ‘جوابی اقدام’ قرار دیا ہے۔ ایک انٹیلی جنس ذریعے کے مطابق، یہ اقدام اسی نوعیت کے رویے کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اعتماد ایک بار ختم ہو جائے تو اسے بحال کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بہت گہرا ہو۔
امریکہ اور برطانیہ کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے اور یہ تعلقات مغربی اتحاد کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، تاہم حالیہ کشیدگی نے اس شراکت داری کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
ادھر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں میں برطانیہ کے محدود کردار پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ جو ممالک امریکہ کا ساتھ نہیں دیتے انہیں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر خود انحصار کرنا ہوگا۔
دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بھی اس کا اہم دفاعی اور سکیورٹی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون قومی مفاد میں جاری رہے گا۔