امریکا-ایران جنگ بلوچستان کی داخلی سیکیورٹی کو کیسے متاثر کرے گی؟

پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستانی قیادت تہران اور واشنگٹن دونوں سے رابطے میں ہے، جبکہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے 22 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست رابطہ بھی کیا تھا۔ تاہم اس سفارتی سرگرمی کے ساتھ پاکستان کو اپنے صوبہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کا بھی سامنا ہے۔

دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے ملحق سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد، سرحد پار حملوں اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2024 میں پاکستان اور ایران نے ایک دوسرے کے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، طویل عرصے سے علیحدگی پسند تحریکوں اور عسکریت پسندی کا مرکز رہا ہے۔ اس خطے میں بلوچ قوم پرست گروہوں کے ساتھ ساتھ مختلف جہادی تنظیمیں بھی سرگرم ہیں، جو افغانستان سے ملحق علاقوں سے اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔ بعض سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ گروہ اب ایران-پاکستان سرحد کو اپنی سرگرمیوں کا نیا مرکز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر بلوچستان میں فرقہ وارانہ پہلو بھی نمایاں ہو رہا ہے، جہاں ایک طرف سنی شدت پسند گروہ حملوں میں ملوث رہے ہیں، وہیں دوسری جانب شیعہ عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں بھی بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جنہیں بعض حلقے ایران کی حمایت یافتہ قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران میں ممکنہ طویل جنگ، سرحدی علاقوں میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف عسکریت پسند گروہوں کو تقویت مل سکتی ہے بلکہ بڑی تعداد میں مہاجرین کی نقل و حرکت بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان خبردار کرتے ہیں کہ ہر علاقائی تنازع کے نتیجے میں بلوچستان میں فوجی موجودگی بڑھتی ہے، جس سے عام شہریوں پر دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پاکستان ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف اسے اپنے داخلی سیکیورٹی چیلنجز، خاص طور پر بلوچستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی، سے نمٹنے کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی اپنانا ہو گی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں