قبائلی علاقوں کو ماضی میں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا، حقوق سے محرومی مزید برداشت نہیں کی جائے گی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کو ماضی میں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا اور اب بھی بعض عناصر ان علاقوں کو حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایسا مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور کمیونٹی رہنماؤں کے وفود سے ملاقات کی۔ سرکاری بیان کے مطابق، اجلاس میں عوامی خدمات کی فراہمی، امن و امان کی صورتحال اور مستقبل کی ترقیاتی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جبکہ وفود کی جانب سے پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

وزیرِاعلیٰ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے مالی حقوق کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اپنا مقدمہ پیش کر رہی ہے اور مالی ناانصافی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق قبائلی علاقے انتظامی طور پر تو ضم ہو چکے ہیں مگر مالی انضمام تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے موجودہ نظام میں وسائل کی تقسیم عملا ساڑھے تین صوبوں تک محدود ہے اور ضم شدہ اضلاع کو ان کا آئینی حصہ نہیں مل رہا، جو آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت سیاسی کوششوں کے ساتھ ساتھ گورننس کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِاعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے افراد سے کیے گئے معاوضے کے وعدے ایک ہفتے کے اندر پورے کیے جائیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو صوبہ احتجاج کا آئینی حق محفوظ رکھتا ہے۔

اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں سڑکوں کی تعمیر، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر اہم شعبے شامل تھے۔ وزیرِاعلیٰ کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لیے قومی مالیاتی کمیشن کے تحت 1 ہزار 3 سو 75 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ انضمام کے وقت وفاق نے سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر گزشتہ 7 برسوں میں صرف 168 ارب روپے جاری کیے گئے، جس سے 532ارب روپے کی کمی باقی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف مدات میں وفاق کے ذمہ خیبر پختونخوا کے 4 ہزار 758 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ وزیرِاعلیٰ نے اعلان کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا جامع ترقیاتی پیکیج تیار کر لیا گیا ہے، جسے آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا اور اس میں تمام اضلاع اور شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں باڑہ ڈیم کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے جبکہ خیبر انڈسٹریل زون پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق جبہ ڈیم کا دیرینہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور ریگی للمہ کے معاملے کو قبائلی عمائدین سے مشاورت کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی لوگوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ تیراہ کے عوام کو زبردستی بے گھر کیا گیا، لیکن جب صوبائی حکومت نے ان کی فلاح کے لیے چار ارب روپے مختص کیے تو اس پر تنقید کی گئی، جبکہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ کے لیے گیارہ ارب روپے کے طیارے کی خریداری پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا، جو دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ ترقیاتی پیکیج پر منتخب نمائندوں سے مشاورت کے ساتھ کام جاری ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں