ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں ٹرمپ کے متضاد بیانات، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں متضاد بیانات کے بعد پیر کی شام سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے عالمی توانائی کی سپلائی روکنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کے خلاف مزید جارحانہ کارروائی کرے گا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے عالمی توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو امریکہ اتنی سخت کارروائی کرے گا کہ ایران یا اس کے مددگار دوبارہ اس خطے میں سنبھل نہیں سکیں گے۔

اس سے قبل دن میں ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اپنے اختتام کے قریب ہو سکتی ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور امریکہ اپنے اہداف کے حصول میں توقع سے کہیں آگے ہے۔

ان بیانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم بعد میں ریپبلکن قانون سازوں سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کئی حوالوں سے کامیاب ہوا ہے، لیکن مکمل کامیابی ابھی باقی ہے اور حتمی فتح تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ اسی ہفتے ختم ہو جائے گی تو انہوں نے کہا کہ ایسا ابھی نہیں ہوگا، لیکن یہ جلد ختم ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل ایران میں مجلس خبرگان نے پیر کے روز مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا۔ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای جنگ کے پہلے دن مارے گئے تھے۔

دوسری جانب جنگ کے دسویں دن بھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں فضائی حملے جاری رکھے۔ امریکی صدر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی افواج تقریباً 3 ہزار فضائی حملے کر چکی ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایران میں تقریباً 1300 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 30 سے زائد افراد جان سے گئے۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں میں تقریباً 500 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 6 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں