شام کے شمال مشرق میں رہنے والے کرد رہنماؤں نے ایرانی کردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی حکومت کے خلاف کارروائی نہ کریں، کیونکہ ان کے تجربے کے مطابق، امریکہ اپنے کرد اتحادیوں کو چھوڑ سکتا ہے۔
شام کے کردوں کا کہنا ہے کہ وہ خود امریکہ کے ساتھ مل کر گزشتہ برسوں میں شدت پسند گروپوں کے خلاف لڑے، لیکن جب صدر احمد الشرع کی فوج نے ان کے زیر قبضہ علاقوں پر قبضہ کیا تو امریکہ نے ان کی حمایت نہ کی، جس سے انہیں دھوکہ محسوس ہوا۔
سوریہ کے کرد رہنماؤں نے کہا کہ ایرانی کردوں کو بھی اسی خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایرانی کرد فورسز کو انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ امریکہ کی دعوت قبول کرنا اور ایران کے نظام کے خلاف محاذ کا حصہ بننا، فی الحال ایرانی کردوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
ایرانی کرد ملیشیا کے بعض رہنماؤں نے امریکہ سے یقین دہانی مانگی ہے کہ ان کی مدد کی جائے گی، لیکن ابھی تک کوئی واضح ضمانت نہیں دی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بارے میں متضاد اعلانات کیے ہیں۔
شام کے کردوں کا کہنا ہے کہ ایرانی کردوں کو امریکی وعدوں پر بھروسہ کرنے سے پہلے اپنی حفاظت اور مستقبل کے لیے یقین دہانی حاصل کرنی چاہیے۔