سری لنکا میں پاک بھارت میچ سے قبل ٹکٹ حاصل کرنا ناممکن، جبکہ پروازوں اور ہوٹلوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا

کولمبو اور جنوبی ایشیا بھر میں اس وقت غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا جب پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ یوں کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اور منافع بخش مقابلہ ایک بار پھر بحال ہو گیا۔

اتوار کی شام سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہونے والے پاک بھارت میچ کی تصدیق پیر کی رات دیر سے ہوئی، مگر اس کے باوجود ٹکٹ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ 35 ہزار نشستوں والے آر پیریمداسا اسٹیڈیم کے تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں، جبکہ بلیک میں ان کی قیمت اصل نرخ سے کم از کم چار گنا زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

کولمبو کے لیے پروازوں اور ہوٹلوں کے کرایوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ بعض ہوٹلوں میں ایک رات کا کرایہ 660 ڈالر تک پہنچ گیا، جو عام حالات میں 100 سے 150 ڈالر کے درمیان ہوتا ہے۔ چنئی سے پروازوں کا کرایہ تین گنا بڑھ کر 623 سے 756 ڈالر تک ہو گیا ہے، جبکہ دہلی سے آنے والی پروازوں میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔

ٹی آر ٹی نے اپنی ایک خبر میں بتایا ہے کہ فروری کے پہلے دس دنوں میں سری لنکا آنے والے ایک لاکھ سیاحوں میں سے تقریباً بیس فیصد صرف پاک بھارت میچ دیکھنے آئے۔

دوسری جانب ٹیلی وژن پر بھی اس میچ کو کروڑوں کی تعداد میں دیکھنے کی توقع ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ناظرین کی تعداد پچھلے تمام ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق 2011 کے پچاس اوور کے عالمی کپ کے فائنل کو 55 کروڑ 80 لاکھ افراد نے دیکھا تھا، جو اب تک سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ ہے۔

دونوں ٹیمیں گروپ اے میں اپنے ابتدائی دو میچ جیت چکی ہیں، اس لیے اتوار کا مقابلہ جیتنے والی ٹیم سپر 8 مرحلے میں رسائی تقریباً یقینی بنا لے گی۔

گزشتہ کئی برسوں سے دونوں ٹیمیں صرف عالمی یا علاقائی مقابلوں میں اور غیر جانبدار میدانوں پر ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ بھارت نے آخری بار 2008 میں ایشیا کپ کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں کے درمیان دوطرفہ سیریز نہیں ہوئی۔

گزشتہ برس ایشیا کپ کے دوران بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے ٹاس سے قبل پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے روایتی مصافحہ نہیں کیا تھا، جبکہ میچ کے بعد بھی بھارتی ٹیم میدان سے چلی گئی تھی۔ اس اقدام کو بھارتی حکومت اور بھارتی کرکٹ بورڈ کی پالیسی سے جوڑا گیا، جس پر پاکستان نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان کی میزبا نی میں ہونے والے 2023 ایشیاء کپ میں بھی بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کیا جس کے باعث پورا ٹورنامنٹ متاثر ہوا تھا۔رواں بیس ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ ٹورنامنٹ بھی ابتدا ہی سے سیاسی تنازع کی نذر رہا۔ پاکستان نے ابتدائی طور پر بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا تھا، تاہم بنگلہ دیش اور سری لنکا کی درخواستوں کے بعد حکومتِ پاکستان نے بالآخر ٹیم کو 15 فروری کو میدان میں اترنے کی اجازت دے دی۔

پاکستانی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ کرکٹ کے جذبے کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں