‘فرینڈ آف دی کورٹ’، عدالت نے وکیل سلمان صفدر کو آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے منگل کے روز پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل میں قید پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے اور انہیں عدالت کا معاون (امیکس کیوری) مقرر کر دیا ہے۔

پیر کے روز پی ٹی آئی کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ کی جانب سے عمران خان سے ’ہنگامی‘ ملاقات کی درخواست سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مسترد کر دی تھی۔ اس بینچ میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔ عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے تھے کہ فریقِ مخالف کو سنے بغیر ایسا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا، جس کے بعد حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل کو سماعت مقرر کی گئی تھی۔

منگل کو سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سلمان صفدر کو ‘عدالت کا دوست’ قرار دیتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ آج ہی اڈیالہ جیل جائیں اور عمران خان کی جیل میں رہائش اور سہولیات سے متعلق صورتحال کا جائزہ لے کر کل تک تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 24 اگست 2023 کے عدالتی حکم کی روشنی میں تحریری جواب پہلے ہی چیمبر میں جمع کرا دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2023 میں سپریم کورٹ نے عمران خان کی جیل میں رہائش سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی، اور اس وقت وہ اٹک جیل میں قید تھے۔ ان کے مطابق، 28 اگست 2023 کو تحریری رپورٹ جمع کروائی گئی تھی، جس کے ساتھ 5 اگست سے 18 اگست تک کی میڈیکل رپورٹ بھی شامل تھی۔

اس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ 24 اگست 2023 کے بعد ایسا کوئی تسلی بخش عدالتی حکم ریکارڈ پر موجود نہیں جو سپریم کورٹ کو مطمئن کر سکے۔ بعد ازاں عدالت نے سلمان صفدر کو باضابطہ طور پر امیکس کیوری مقرر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جیل میں رہائش کی صورتحال پر ایک تازہ رپورٹ پیش کرنا مناسب ہے۔

چیف جسٹس نے واضح ہدایت دی کہ سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل میں انتظار نہ کروایا جائے اور انہیں عمران خان تک مکمل رسائی دی جائے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی رپورٹ تیار کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی قسم کی رکاوٹ پیش آئے تو چیف جسٹس کے ذاتی عملے سے فوری رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر سلمان صفدر نے عدالت سے استفسار کیا کہ آیا رپورٹ کا دائرہ کار صرف رہائشی حالات تک محدود ہوگا یا صحت سے متعلق امور بھی شامل کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ حال ہی میں عمران خان کے ایک طبی عمل سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رپورٹ صرف جیل میں رہائش اور سہولیات تک محدود رکھی جائے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ حکم نامے میں یہ بات بھی شامل کی جائے کہ عمران خان کی رہائش سے متعلق رپورٹ پہلے ہی جمع کروائی جا چکی ہے۔ سماعت کے اختتام پر لطیف کھوسہ نے دوبارہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت مانگی، تاہم عدالت نے یہ درخواست ایک بار پھر مسترد کر دی۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

واضح رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان 5 اگست 2023 سے قید میں ہیں اور اس وقت راولپنڈی کی سینٹرل جیل اڈیالہ میں بند ہیں۔ گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو دو صفحات پر مشتمل ایک یادداشت جمع کروائی تھی، جس میں عمران خان کو اہلِ خانہ، ڈاکٹروں، وکلا اور دوستوں سے فوری ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

یادداشت میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ اس دوران عمران خان کے ایک قیدی اور ایک انسان کے بنیادی حقوق مسلسل پامال کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد کے ایک اسپتال میں مبینہ خفیہ طبی عمل اور اہلِ خانہ کو لاعلم رکھنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں