پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز پیر کے روز ریکارڈ 2 ارب 45 کروڑ روپے میں ولی ٹیکنالوجیز (Walee Technologies) کو فروخت کر دی گئی۔ یہ نیلامی پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن سے قبل لاہور میں ہونے والی بولی کے دوران عمل میں آئی۔
نیلامی کے موقع پر میزبان فخرِ عالم نے بولی میں حصہ لینے والوں کو آگاہ کیا کہ کامیاب بولی میں آئندہ 10 برس تک ٹیم کی ملکیت برقرار رکھنے کی سالانہ فیس بھی شامل ہوگی۔ اس موقع پر ولی ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احسن طاہر نے اعلان کیا کہ فرنچائز کا نام تبدیل کیا جائے گا اور ٹیم اب راولپنڈی کے نام سے کھیلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے لیے ایک نیا اور حیران کن نام منتخب کیا جا رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کامیاب بولی پر ولی ٹیکنالوجیز کو مبارک باد دی اور ملتان سلطانز فرنچائز کے قیام کے لیے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے وژن کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ملتان سلطانز کا تصور نجم سیٹھی نے پیش کیا تھا اور یہ خوشی کی بات ہے کہ وہ آج اس تقریب میں موجود ہیں۔ اس موقع پر نجم سیٹھی کو اسٹیج پر بھی مدعو کیا گیا۔
نجم سیٹھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے لیے یہ لمحہ ایک خواب کی تکمیل کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر بے حد خوش ہیں کہ یہ مرحلہ محسن نقوی کی سربراہی میں مکمل ہوا، جنہیں وہ اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہیں۔ نجم سیٹھی نے اس بولی کو پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بڑا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ دنوں میں پی ایس ایل سے آگے بھی اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔
بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے کہا کہ ملتان سلطانز کے برانڈ کے مستقبل پر غور کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص 2 ارب 45 کروڑ روپے ادا کر رہا ہے، اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ لازمی طور پر ملتان سلطانز کا نام برقرار رکھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ابتدا میں فرنچائز کو ایک یا دو سال کے لیے نیلام کرنے کا ارادہ تھا، تاہم مارکیٹ کا ماحول سازگار ہونے کی وجہ سے فیصلہ تبدیل کیا گیا۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ انہیں ملتان سلطانز کے برانڈ کی عمر اور اس کی ساکھ سے متعلق خدشات بھی تھے، کیونکہ یہ فرنچائز ان کے دل کے قریب ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر کوئی متوازن حل نکالا جائے گا۔ ابتدائی بولی 1 ارب 82 کروڑ روپے رکھنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے بتایا کہ یہ رقم سیالکوٹ ٹیم کی فروخت کے قریب تھی، جو 1 ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی تھی۔