نئی سولر پالیسی کیا واقعی ظالمانہ ہے؟

نئی سولر پالیسی کیا واقعی اتنی ظالمانہ اور غیر انسانی ہے جتنا اس پر شور مچایا جا رہا ہےا ور دہائی دی جا رہی ہے؟ آئیے ذرا اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں ۔

بعض اینکر پرسن رقت آمیز لہجے میں ایسے دہائی دے رہے ہیں کہ ایک بار تو دل کرتا ہے بندہ سارے کام چھوڑ دےاور ان دردمندوں کے ساتھ مل کر ، سر میں خاک ڈال لےاور سینہ کوبی شروع کر دے کہ ہائے ہائے ہائے ایسا ظلم ہو گیا کہ معلوم انسانی تاریخ میں ایسے ظلم کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ رعونت اور نرگسیت کے یہ ابلاغی مجسمے واقعی عوام کی تکلیف پر چلا رہے ہیں یا یہ ان کی خالصتا ذاتی تکلیف ہے جس کی وجہ سے چیخوں اور آہ و زاری کا سلسلہ بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔

اس ملک میں بجلی کی قیمتیں ظالمانہ حد تک بڑھ گئیں ، اینکر پرسنز “کا” غیرت ایمانی نہ ” جاگا” ۔ بجلی کے بل خلق خدا کے لیے عذاب بن گئے لیکن ابلاغی اشرافیہ دہی کے ساتھ قلچہ کھاتی رہی ۔ اب اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ یہ عام عوام کے غم میں ٹارزن کی طرح لنگوٹ کس کر کبھی ادھر چھلانگ لگا رہے ہیں تو کبھی ادھر۔ یہ عوام کا درد ہے یا ذاتی تکلیف ہے کہ ہم نے جو سولر لگائے ہوئے تھے اس کی چھاؤں میں بٹنے والا مالِ غنیمت دو چٹکی کم ہو گیا ہے۔

صورت حال بے شک پریشان کن ہے لیکن یہ اجتماعی طور پر ، پریشان کن ہے۔ اس میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ باقی کے عوام پستے رہیں اور سولر صارفین کو مزے کروائے جاتے رہیں ۔ صرف اس لیے کہ وہ قدرے آسودہ ہیں اور سولر لگوانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ سولر صارفین کا بوجھ عام لوگوں پر منتقل ہو چکا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی آئی ہےاور بجلی کا روایتی نظام دباؤ میں ہے۔ اس کا بوجھ مگر سب پر منتقل ہو گا ، ایسے نہیں ہو سکتا کہ بیس پچیس ہزار کو ترسنے والے تو کچلے جائیں اور لاکھوں کا سولر لگوانے والے اپنا بوجھ بھی ان پر منتقل کر دیں۔

ہوتا کیا ہے؟ دن میں سولر صارفین نے اضافی بجلی حکومت کو دے دی ، اچھی بات ہے۔ لیکن رات کو انہیں واپڈا کی بجلی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واپڈا نے اتنی بجلی پیدا کرنی ہے کہ ان سولر والوں کی رات کی ضرورت بھی پوری ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ واپڈا دن میں کم بجلی پیدا کرےا ور رات کو زیادہ۔ یہ ٹاک شو نہیں ہوتا کہ چالیس منٹ میں آدھی دنیا نبٹا دی جائے۔

رات کو اگر زیادہ بجلی کی کھپت ہے تو اس کے لیے مسلسل اتنی بجلی کی صلاحیت کو رکھنا ضروری ہے۔ اس پر اخراجات اٹھتے ہیں۔ ماضی میں غلط فیصلے ہو چکے ہیں ، لیکن ہو چکے ہیں۔ اصلاح احوال ہو گی تو اجتماعی طور پر ہو گی۔ سولر والے کوئی شہزادے نہیں کہ جب انہیں رات کو بجلی درکار ہو تو سستے داموں دے دی جائے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ سولر والے اگر سولر لگا کر دن میں اضافی بجلی بیچتے ہیں تو ایک طرح سے کاروبار کرتے ہیں ۔ اس پر ٹیکس کیوں نہ لگایا جائے؟ ٹیکس کیا صرف ا س مسکین کی چمڑی ادھیڑنے کے لیے ہوتا ہے جس کے گھر دس پندرہ ہزار کا بل آ جائے تو وہ واپڈا کے دفتروں میں قسطیں کرانے کے لیے ذلیل ہو رہا ہوتا ہے؟

تیسری بات یہ ہے کہ سولر والوں کو بجلی کی فروخت میں کون سا ظلم ہوا ہے کہ دہائی دی جا رہی ہے؟ نئے فارمولے میں ان سے بجلی کی وہی قیمت لی جا رہی ہے جو باقی صارفین سے لی جاتی ہے۔ اس میں کیا غلط ہے؟

چوتھی بات یہ ہے کہ واپڈا نے تو بجلی کی وہ پیداواری صلاحیت برقارار رکھی ہوئی ہے جس میں سولر والوں کو رات کو بجلی دی جا سکے ۔ تو ایسے میں واپڈا اگر سولر والوں سے دن میں ان کی اضافی بجلی سرے سے خریدنے سے ہی انکار کر دے تو پھر؟

پانچویں بات یہ ہے کہ ہر آسودہ حال آدمی نے سولر لگایا ہے تو ایک طرح سے بجلی پیدا کرنے والا مالک بنا بیٹھا ہے۔ تھوڑی یا زیادہ مگر ہے تو مالک جو بجلی پیدا کر کے فروخت کر رہا ہے۔ تو کیا حکومت پابند ہے کہ ہر بجلی پیدا کرنے والے سے بجلی خریدے اور پھر رات کے اوقات میں اسے مال غنیمت بھی فراہم کرے؟ کیا واپڈا کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان سب سے دن میں ان کی فالتو بجلی لازمی خریدے؟

چھٹی بات یہ ہے کہ سولر والوں کا مسئلہ بنیادی طور پر صارفین کا مسئلہ ہے یا چھوٹے چھوٹے بجلی پیدا کرنے والے مالکان کا؟ جب اس کا تعین ہو جائے گا تو بحث کی نوعیت ہی بدل جائے گی ۔

ساتواں نکتہ یہ ہے کہ سولر صارفین کی بجلی کی کھپت اگر 200 یونٹ ( یا جو بھی حد مقررہے) سے نیچے ہو تو ان سے وہ قیمت لے جا رہی تھی جو صرف انتہائی غریبوں ، مسکینوں اور بیواؤں کے لیے تھی جو غربت کے نچلے درجے میں ہیں اور انہیں سبسڈائز کیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ لاکھوں کا سولر لگانے والے اس مسکینی والے ریٹ سے کیسے فیض یاب ہوتے رہے تھے؟ اور کیوں فیض یاب ہوتے رہیں؟

یہ درست ہے کہ سولر والے سارے لوگ بھی سیٹھ نہیں ہیں ، اس میں سفید پوش بھی ہیں جو اپنی جمع پونجی لگا کر، زیورات تک بیچ کر سولر لگواتے ہیں لیکن ان سے زیادہ سفید پوش وہ ہیں جن کے پاس جمع پونجی لگا کر بھی سولر لگوانے کی سہولت نہیں ہوتی ۔ان کے پاس زیورات بھی نہیں ہوتے کہ بیچ کر سولر لگوا لیں۔ وہ کہاں جائیں؟ ہر آسودہ حال سولر پر منتقل ہو جائے تو ان کی وجہ سے اوسطا مہنگی بجلی کا بوجھ یہ غریب صارف کیوں برداشت کرے؟

بجلی کی سستے داموں فراہمی بالکل ایک مسئلہ ہے ، اس سے نبٹنے کے لیے حکومت کو اچھی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کی غلطیوں کے پہاڑ معاشرے کی کمر دہری کر چکے ہیں ۔ دنیا بدل رہی ہے ۔ اس کے تقاضے بھی بدل رہے ہیں۔ کل کو شاید واپڈا ہی نہ رہےا ور پی ٹی سی ایل کی طرح قصہ ماضی ہو جائے لیکن تب تک کے دورانیے میں عام آدمی کی کھال ادھیڑتے رہنا کوئی پالیسی نہیں ہے۔

رہ گئی سٹوڈیو کی مصنوعی روشنیوں میں عمر رفتہ کو چھپانے کے لیے میک اپ کی دبیز تہہ لگا کر دی گئی یہ دھمکی کہ ہم نے لیتھیم کی بیٹریاں لگوا کر گرڈ سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا تو پھر کیا ہو گا؟ تو عالی جاہ آپ لگوا لیجیے لیتھیم کی بیٹریاں ۔ میں بھی لگوا رہا ہوں ۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں