ہانگ کانگ کے معروف میڈیا مالک اور جمہوریت نواز رہنما جمی لائی کو پیر کے روز چین کی جانب سے نافذ کردہ قومی سلامتی کے قانون کے تحت 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ اب تک اس قانون کے تحت دی جانے والی سب سے طویل سزا ہے۔
78 سالہ جمی لائی کو دسمبر میں عدالت نے غیر ‘ملکی طاقتوں سے ملی بھگت کے ذریعے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور بغاوت پر مبنی مضامین شائع کرنے کی سازش’ کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔ ان الزامات پر زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی تھی، تاہم عدالت نے انہیں 20 سال قید کی سزا سنائی۔
اس مقدمے میں جمی لائی کے ساتھ ان کے اخبار ایپل ڈیلی کے چھ سابق ملازمین اور دو سماجی کارکن بھی شامل تھے۔ ان افراد کو ‘غیر ملکی طاقتوں سے ملی بھگت’ سے متعلق الزامات پر چھ سال تین ماہ سے لے کر دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈپریس کے مطابق، جمی لائی سزا سننے کے لیے عدالت پہنچے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنے حامیوں کی جانب ہاتھ ہلایا، تاہم عدالت سے روانہ ہوتے وقت وہ سنجیدہ نظر آئے، جبکہ عوامی گیلری میں موجود بعض افراد آبدیدہ ہو گئے۔ ان کے وکیل رابرٹ پینگ نے اپیل کے حوالے سے سوال پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
جمی لائی کی گرفتاری اور مقدمے کو ہانگ کانگ میں صحافتی آزادی کے زوال کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ کیس اس شہر میں میڈیا کی آزادی پر ایک بڑا دھچکا ہے، جو ماضی میں ایشیا میں آزاد صحافت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ہانگ کانگ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس مقدمے کا آزادیٔ صحافت سے کوئی تعلق نہیں اور ملزمان نے خبر رسانی کو برسوں تک چین اور ہانگ کانگ کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔
جمی لائی 2020 میں قومی سلامتی کے قانون کے تحت گرفتار کیے جانے والے پہلے نمایاں افراد میں شامل تھے۔ اس کے بعد ایپل ڈیلی کے کئی سینئر صحافی بھی گرفتار ہوئے اور بالآخر یہ اخبار جون 2021 میں بند ہو گیا۔
اس فیصلے کے بعد چین اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک پہلے ہی جمی لائی کی سزا پر تنقید کر چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے جمی لائی کی رہائی پر غور کرنے کی درخواست کی ہے۔
برطانوی حکومت نے بھی جمی لائی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سزا عملی طور پر عمر قید کے مترادف ہے۔ جمی لائی برطانوی شہریت بھی رکھتے ہیں۔
جمی لائی کے بیٹے سبیسٹین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سخت سزا ان کے خاندان کے لیے تباہ کن اور ان کے والد کی جان کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ہانگ کانگ کے قانونی نظام کے خاتمے کے مترادف ہے۔ جمی لائی کی بہن نے بھی اس سزا کو نہایت ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سزا نافذ رہی تو وہ جیل میں ایک شہید کی حیثیت سے جان دیں گے۔
دوسری جانب ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا کہ یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کا ثبوت ہے اور عوام کے لیے اطمینان کا باعث ہے۔ بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمی لائی کو چین مخالف سرگرمیوں کا اہم منصوبہ ساز قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک سے ہانگ کانگ کے قانونی نظام کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔
عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ جمی لائی ان تمام سازشوں کے مرکزی کردار تھے، اسی بنیاد پر ان کی سزا میں اضافہ کیا گیا۔ تاہم عدالت نے ان کی عمر، صحت اور تنہائی میں قید کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں کچھ نرمی بھی کی۔ جمی لائی اس وقت ایک علیحدہ فراڈ کیس میں پانچ سال نو ماہ قید کی سزا بھی کاٹ رہے ہیں، جس کے بعد ان کی مجموعی قید مزید طویل ہو جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ صحافیوں اور تعلیمی حلقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ریاست پر تنقید اور بین الاقوامی اداروں سے رابطے کو اب آسانی سے غیر ملکی سازش قرار دیا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس سزا کو غیر انسانی اور ناانصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔
ہانگ کانگ کی پولیس اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جمی لائی کے جرائم سے متعلق اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔