ازبک صدر شوکت مرزائیوف پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ

اُزبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ ااختتام پذیر ہو گیاہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم ملاقاتیں اور معاہدے طے پائے۔

دورے کے دوران صدر شوکت مرزائیوف نے اسلام آباد میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور اُزبکستان کے درمیان دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سیاست، تجارت، معیشت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور انسانی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

اعلیٰ سطح مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف اہم شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے لیے متعدد دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دو روزہ دورے کے دوران اُزبک صدر نے پاکستان-اُزبکستان مشترکہ بزنس فورم میں شرکت کی اور پاکستان کے نمایاں کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔

اسلام آباد میں ایوان صدر میں صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز “نشانِ پاکستان” سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان کی ایک ممتاز جامعہ نَسٹ کی جانب سے اعزازی ڈاکٹر اور پروفیسر کا خطاب بھی دیا گیا۔

دورے کے دوران اسلام آباد کی ایک سڑک کو “تاشقند اسٹریٹ” جبکہ ایک نئے تعمیر ہونے والے پارک کو عظیم تاریخی شخصیت ظہیرالدین محمد بابُر کے نام سے منسوب کیا گیا، جو دونوں ممالک کے مشترکہ تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی علامت قرار دیا گیا۔

دورہ مکمل ہونے کے بعد صدر شوکت مرزائیوف اسلام آباد کے نور خان ایئرپورٹ سے وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں پاکستان کے وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے انہیں رخصت کیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں