ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی صدرِ پاکستان سے ملاقات، عالمی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے سرکاری دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے وفود کی شرکت کے ساتھ باضابطہ مذاکرات بھی ہوئے۔اس دوران اُزبکستان اور پاکستان کے درمیان دوستی، کثیرالجہتی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے موجودہ حالات اور اہم پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے صدر شوکت مرزائیوف کو اسٹریٹجک تعاون کونسل کے پہلے اجلاس کی کامیاب تکمیل پر مبارک باد دی اور کہا کہ اُزبک صدر کا یہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی رفتار اور عملی جہت فراہم کرے گا، جو تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

صدرِ پاکستان نے اُزبکستان میں 2030 تک ترقی کے وژن کے تحت جاری وسیع سماجی و اقتصادی اصلاحات کو سراہتے ہوئے ان اقدامات کو قابلِ تقلید قرار دیا۔

ملاقات میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوطرفہ تجارت کا حجم اور مشترکہ صنعتی منصوبوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ معیشت کے اہم شعبوں میں تعاون کے کئی منصوبے عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی روابط کو مزید مضبوط بنانے، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس تناظر میں قریبی مستقبل میں دوطرفہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اور اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

علاقائی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلا علاقائی فورم رواں سال ازبکستان کے تاریخی شہر خیوا میں منعقد کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں، بین الاقوامی اداروں کے پلیٹ فارمز پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی اور عالمی امور پر مشترکہ مؤقف اپنانے اور ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ثقافتی، تعلیمی اور انسانی روابط کے فروغ، نیز تعلیم، ماحولیات، کھیل اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر بھی دونوں ممالک نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی۔

مذاکرات کے اختتام پر صدر شوکت مرزائیوف نے صدر آصف علی زرداری کو باقاعدہ طور پر اُزبکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں