‘ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبہ خطے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا’، اسلام آباد میں ازبک صدر شوکت مرزائیوف اور وزیراعظم پاکستان کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد میں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اور ان کے وفد کی پاکستان آمد پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ چار برسوں میں دوسری مرتبہ اپنے “دوسرے گھر” اسلام آباد تشریف لائے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر صدر مرزائیوف کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد کی جانب سے اعزازی پروفیسر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کی مثالی خدمات، غیر متزلزل لگن اور نہ صرف ازبکستان بلکہ پورے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ میں ان کے کردار کا اعتراف ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ازبک صدر کو نشانِ پاکستان، جو کہ ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے، ملنے پر بھی مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اعزاز پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مضبوط معاشی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کی ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر اس سے بھی بڑا کوئی اعزاز ہوتا تو صدر مرزائیوف اس کے بھی سب سے زیادہ مستحق ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی، روحانی اور ثقافتی تعلقات صدیوں پر محیط ہیں اور یہ رشتہ قدیم شاہراہِ ریشم سے جڑا ہوا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے مغل سلطنت اور سمرقند و بخارا کے عظیم علمی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی حقائق دونوں ممالک کے دیرپا تعلقات اور روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے صدر مرزائیوف کی قیادت، وژن اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کی بدولت دوطرفہ تعلقات نئی بلندیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے گزشتہ برس فروری میں ازبکستان کے دورے کے دوران ملنے والی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی کہا کہ اگر پاکستان میں مہمان کے استقبال میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی روز اعلیٰ سطح اسٹریٹجک تعاون کونسل کا افتتاحی اجلاس بھی منعقد ہوا، جو دونوں برادر ممالک اور عوام کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان علاقائی روابط کے فروغ پر مکمل طور پر متفق ہیں اور ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان ریلوے منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس منصوبے کے لیے قابلِ عمل منصوبہ بندی اور کاروباری پلان کی بنیاد پر مشترکہ طور پر فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے صدر مرزائیوف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم بولنے اور زیادہ عمل کرنے والے رہنما ہیں اور آج ہونے والے معاہدوں پر دستخط اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک زراعت، ادویات، ٹیکسٹائل، چمڑا، جوتا سازی، سیاحت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں معاشی تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اسلام آباد اور تاشقند کے درمیان ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا جو پانچ سالہ جامع منصوبہ تیار کرے گا، جس میں تمام معاشی شعبے شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر اس کمیٹی کی نمائندگی کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنما سہ ماہی بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے پر بھی متفق ہوئے ہیں اور رسمی ملاقاتوں کے بجائے مختصر مگر نتیجہ خیز ورکنگ سیشنز کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طریقۂ کار سے مستقبل میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوں گی۔

وزیر اعظم نے اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ ازبکستان بورڈ آف پیس اقدام کا حصہ ہے، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فورم کے ذریعے غزہ میں دیرپا امن، تعمیرِ نو اور مسئلۂ فلسطین کے دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ وزیر اعظم نے کشمیر کے عوام کے لیے ازبکستان کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ازبکستان کا آزمودہ، قابلِ اعتماد شراکت دار اور قریبی دوست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں عوامی فلاح اور معاشی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جا رہی ہیں، جن پر ازبکستان کو فخر ہے۔

صدر مرزائیوف نے پاکستان میں شاندار استقبال اور مختصر وقت میں نمایاں پیش رفت پر شکریہ ادا کیا اور اعزازی ڈگری اور پروفیسر کے خطاب کو اپنے لیے ایک تاریخی اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس دن کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور یہ ان کے خاندان کے لیے بھی ایک یادگار موقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی نسٹ کے صدر سے مفید گفتگو ہوئی اور ازبکستان کی یونیورسٹی آف مائننگ میں نسٹ کے لیے ایک چیئر قائم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، سائنسی تحقیق، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

صدر مرزائیوف نے نشانِ پاکستان ملنے کو دونوں ممالک کے درمیان احترام، دوستی اور برادرانہ تعلقات کی واضح علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ اعزاز صرف قیادت کے لیے نہیں بلکہ ازبکستان کے عوام کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، دفاع، سیاسی اور معاشی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور ایک ایسا پروٹوکول طے پایا جو مستقبل کے بڑے معاہدوں کی بنیاد بنے گا۔ ان کے مطابق یہ ازبکستان کی خارجہ تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے اور ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

صدر مرزائیوف نے پاکستان کے عوام کی دانش اور دوستی کی روایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی ایک سڑک کو تاشقند کے نام سے منسوب کرنا اور بابر اعظم کے نام سے پارک بنانے کی اجازت دینا دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی علامت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ پارک نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوگا بلکہ دونوں قوموں کی دوستی کو بھی اجاگر کرے گا۔

علاقائی اور عالمی تنازعات کے حوالے سے صدر مرزائیوف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کی حمایت سمیت مشترکہ مؤقف اختیار کرے گا اور وزارتِ خارجہ کے ذریعے تمام اقدامات باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک اپنی کوششیں متحد رکھیں تو موجودہ اور مستقبل کے تمام چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں