دنیا بھر میں سالانہ تقریبا 70 لاکھ افراد کے کینسر کو روکا جا سکتا ہے: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کی گئی پہلی جامع عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 70 لاکھ افراد کو ہونے والا کینسر روکا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کینسر کے لگ بھگ 37 فیصد کیسز ایسے عوامل کے باعث ہوتے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے، جن میں انفیکشنز، طرز زندگی کے غلط انتخاب اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کئی اقسام کے کینسر انسانی جسم میں ہونے والی ناگزیر جینیاتی تبدیلیوں یا موروثی وجوہات کی بنا پر ہوتے ہیں، تاہم حیران کن طور پر تقریبا ہر دس میں سے چار کینسر ایسے ہیں جن سے احتیاطی تدابیر کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔ تحقیق سے وابستہ ڈاکٹر ازابیل سورجومٹارام کے مطابق، اکثر لوگ یہ جان کر حیران ہوتے ہیں کہ کینسر کی اتنی بڑی تعداد قابل تدارک ہے، جو اس مسئلے کے حل کے لیے ایک بڑی امید کی علامت ہے۔

یہ تحقیق عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) نے کی، جس میں کینسر کے خطرے کو بڑھانے والے 30 ایسے عوامل کا تجزیہ کیا گیا جن سے بچا جا سکتا ہے۔ ان میں سگریٹ نوشی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں شامل ہیں جو براہِ راست ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہیں، جبکہ موٹاپا اور جسمانی سرگرمی کی کمی جسم میں سوزش اور ہارمونی تبدیلیوں کے ذریعے کینسر کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔ فضائی آلودگی بھی ایک اہم عنصر ہے جو بعض اوقات جسم میں موجود غیر فعال کینسر کے خلیات کو متحرک کر دیتی ہے۔

رپورٹ میں کینسر پیدا کرنے والے نو انفیکشنز کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV)، ہیپاٹائٹس وائرسز جو جگر کے کینسر کا سبب بنتے ہیں، اور معدے کے جراثیم ایچ پائلوری شامل ہیں۔ ماہرین نے 2022 کے کینسر کے عالمی اعداد و شمار اور اس سے ایک دہائی قبل موجود خطرے کے عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے 185 ممالک کا ڈیٹا استعمال کیا۔

تحقیق کے مطابق، دنیا بھر میں کینسر کے سب سے بڑے تین قابل تدارک اسباب سگریٹ نوشی، انفیکشنز اور الکحل کا استعمال ہیں۔ سگریٹ نوشی سے تقریبا 33 لاکھ، انفیکشنز سے 23 لاکھ جبکہ شراب نوشی سے تقریبا 7 لاکھ کینسر کے کیسز سامنے آتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مردوں اور عورتوں میں کینسر کے خطرے کی نوعیت مختلف ہے۔ مردوں میں تقریبا 45 فیصد کینسر ایسے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح 30 فیصد ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مردوں میں تمباکو نوشی کا زیادہ رجحان ہے۔ یورپ میں رہنے والی خواتین میں کینسر کی قابلِ تدارک وجوہات میں سب سے پہلے سگریٹ نوشی، اس کے بعد انفیکشنز اور پھر موٹاپا شامل ہیں، جبکہ سب صحارا افریقہ میں خواتین کے تقریبا 80 فیصد قابلِ تدارک کینسر انفیکشنز کے باعث ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس فرق کی وجہ سے کینسر سے بچاؤ کی حکمتِ عملی ہر ملک اور خطے کے مطابق بنانا ضروری ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پھیپھڑوں کا کینسر، معدے کا کینسر اور سروائیکل کینسر دنیا بھر میں قابلِ تدارک کینسر کے تقریبا نصف کیسز پر مشتمل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او میں کینسر کنٹرول کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر آندرے ایلباوی نے اس تحقیق کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی خبر ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کینسر کے خلاف عملی اقدامات ممکن ہیں۔ ان کے مطابق جن ممالک نے تمباکو نوشی کے خلاف سخت پالیسیاں اپنائیں یا HPV ویکسینیشن کو فروغ دیا، وہاں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ قابلِ تدارک کینسر کی شرح کم کی جا سکتی ہے اور عالمی ہدف یہی ہونا چاہیے کہ اس شرح کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں