گزشتہ ایک سال کے دوران 80 پاکستانی کمپنیاں ازبکستان میں رجسٹر ہوئیں: ازبک وزیر سرمایہ کاری و تجارت

ازبکستان کے وزیرِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لذیز قدرتوف نے منگل کے روز پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات کے دوران بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی نژاد 80 کمپنیوں کو ازبکستان میں رجسٹر کیا گیا ہے، جبکہ مزید کئی کمپنیاں رجسٹریشن کے مراحل میں ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے کاروباری اعتماد اور اقتصادی تعاون کی علامت قرار دیا۔

ملاقات میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو تیز کرنے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات کے بعد جاری کیے گئے سرکاری بیان کے مطابق اس وقت ازبکستان میں مجموعی طور پر 228 پاکستانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ دونوں فریقین نے غذائی تحفظ، معدنیات، ٹیکسٹائل، چمڑا، ادویات سازی، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور مخصوص صنعتی تعاون جیسے اہم شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر بھی گفتگو کی۔

ازبک وزیر لذیز قدرتوف نے بتایا کہ ازبک کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں، خصوصا غذائی تحفظ، گوشت کی پیداوار، چاول کی کاشت اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ازبک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اعلیٰ سطح روابط اور ادارہ جاتی تعاون کے باعث دوطرفہ تعلقات میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب اصل توجہ ان مواقع کو عملی شکل دینے پر ہونی چاہیے، جس کے لیے لاجسٹکس، کاروباری روابط اور عملدرآمد کے شعبوں میں موجود خلا کو پُر کرنا ضروری ہے۔

جام کمال خان نے تجارت اور سرمایہ کاری کے امور میں مؤثر اور مربوط نظام برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ازبکستان کی تجارتی ترقی کی کوششوں کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

ازبک وزیر نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک اہم اعلیٰ سطح دورے کی تیاری کر رہے ہیں، جو ان کے بقول دوطرفہ شراکت داری میں ایک اور سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں تقریبا 10 فیصد اضافہ ہوا، جس میں ازبکستان کی جانب سے پاکستان سے درآمدات میں تقریبا 12 فیصد جبکہ پاکستان کو ازبک برآمدات میں تقریبا 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت کے توازن اور حجم میں مزید بہتری کی ضرورت ہے اور دونوں ممالک نے صنعتی تعاون کو گہرا کرنے اور نئے شعبوں میں اشتراک کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو دو ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں